Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

عثمان خواجہ کے اہل خانہ پر حملے کی کوشش

آسٹریلیا (اوصاف نیوز) پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے خاندان کو سوشل میڈیا پر سخت نسلی اور مذہبی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق سڈنی میں بوندی بیچ شوٹنگ کے واقعے کے بعد جہاں آسٹریلیا بھر میں سوگ کا سماں ہے وہیں چند انتہا پسندوں نے عثمان خواجہ کی نوعمر بیٹیوں کو نسل پرستانہ حملے کا نشانہ بنایا۔

عثمان خواجہ اس وقت ایشز سیریز میں مصروف ہیں اور انہوں نے عوامی سطح پر ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم ان کی اہلیہ ریچل خواجہ نے سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے توہین آمیز اور نفرت انگیز پیغامات کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نفرت ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے تاہم حالیہ دنوں میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیغامات نہ صرف تکلیف دہ ہیں بلکہ اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ کس طرح اقلیتی برادریوں کو مشکل وقت میں اجتماعی نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس واقعے کے بعد کھیلوں اور سماجی حلقوں نے نسل پرستی، اسلامو فوبیا اور ہر قسم کی نفرت کے خلاف یکجہتی اور مضبوط موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں‌:موسم کی تازہ صورتحال، اہم پیش گوئی سامنے آ گئی

یہ بھی پڑھیں