کراچی (اوصاف نیوز) کراچی سے کشمور اور تھرپارکر تک جدید ریلوے روٹس پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے درمیان فیصلہ کن ملاقات میں صوبے کے ریلوے نظام کو جدید بنانے کے لیے اربوں روپے کے منصوبے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا آغاز کراچی سے کشمور اور کراچی تا تھرپارکر کے راستوں سے ہوگا جس کا مقصد لاکھوں شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔
اس موقع پر مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر سندھ کے عوام کے لیے ریلوے کے جدید منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ نئے ریلوے منصوبے سے سندھ کی 67 فیصد آبادی مستفید ہو گی۔ سندھ حکومت 6 جدید ٹرینیں خریدنے پر غور کر رہی ہے۔
حنیف عباسی نے کہا کہ روہڑی اسٹیشن کی عالمی معیار کی تزئین و آرائش کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وزارت ریلوے سندھ حکومت کو 6 جدید ٹرینوں کی تمام تفصیلات فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومتوں کے درمیان یہ شراکت داری پاکستان ریلوے کی تاریخ میں ایک نیا باب ہو گی۔ سندھ کو ریلوے کا نظام دیا جائے گا جو ماحول دوست ہوگا اور معاشی ترقی کا باعث بھی بنے گا۔ سندھ حکومت کو ہر ممکن تکنیکی تعاون اور ’رائیٹ آف وے‘ فراہم کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اس کا مقصد سندھ کے دور دراز علاقوں کو جدید اور سستی سفری سہولیات سے جوڑنا ہے۔ ریلوے منصوبے سے سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہو گا۔ اس 858 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کی بحالی کے لیے فنڈنگ پر غور کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت تحفظ اور آرام دہ سفر کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان نے کہا کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت نے ریلوے منصوبے میں شراکت داری پر اتفاق کیا ہے۔ سندھ میں 858 کلومیٹر طویل ریلوے نیٹ ورک کو جدید بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بغیر پھاٹکوں کے 100 ریلوے کراسنگ کو محفوظ بنانے کے لیے 6 ارب روپے رکھنے کی تجویز پر معاہدہ طے پا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ کوٹری سے دادو، دادو سے لاڑکانہ، حیدرآباد سے میرپور خاص، روہڑی سے جیکب آباد اور حیدرآباد سے بدین سمیت 6 اہم روٹس کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس سرمایہ کاری کے بعد کوٹری اور دادو کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کم ہو جائے گا۔
اجلاس کا اختتام پاکستان ریلویز اور سندھ حکومت کے درمیان جلد ہی 25 سالہ فریم ورک پارٹنرشپ ایگریمنٹ پر دستخط کرنے کے عزم کے ساتھ کیا گیا تاکہ ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں میں طویل المدتی تعاون کو باضابطہ شکل دی جا سکے۔
مزید پڑھیں:رجب بٹ سے متعلق بڑی خبر آ گئی
