کراچی (اوصاف نیوز) سندھ حکومت نے کسانوں کو پرائیویٹ سیکٹر سے زرعی بیج خریدنے کی بجائے سستے داموں خود حکومت کا تیار کردہ بیج فراہم کرنے اور سندھ سیڈ کارپوریشن کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے وزیر زراعت سندھ سردار محمد بخش مہر کی زیر صدارت سندھ سیڈ کارپوریشن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو، ایڈیشنل سیکریٹری ادریس کھوسو، منیجنگ ڈائریکٹر سندھ سیڈ کارپوریشن عبدالفتاح ہالیو اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ سیڈ کارپوریشن کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جب کہ افسران کی جانب سے کارکردگی رپورٹس پیش کی گئیں، منیجنگ ڈائریکٹر نے سندھ سیڈ کارپوریشن کا مستقبل کا ایکشن پلان پیش کیا، جس پر وزیر زراعت نے اتفاق کیا۔
اجلاس میں ایم ڈی عبدالفتاح ہالیو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سالوں کی نسبت 352 ایکڑ زیادہ رقبہ پر گندم کاشت کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 2242.85 ایکڑ پر گندم کاشت کی گئی۔ روپے کی آمدنی۔ کپاس کی مد میں 12 ملین روپے کی آمدن ہوئی جبکہ چاول (دھان) کی مد میں 16 ملین روپے کمائے گئے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ادارے کے ملازمین کو 4 ماہ کی تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں اور 4 ماہ کی تنخواہ موجود ہے، کسانوں کو 2170 گندم کے تھیلے فراہم کیے گئے، جبکہ 295 من کپاس کی جننگ ہو چکی ہے، مچھلی کے تالابوں سے بھی آمدنی ہوئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ سیڈ کارپوریشن کی زرعی اراضی پر قبضہ کرنے والے لینڈ گرابرز کے خلاف دو ایف آئی آر درج کر لی گئی ہیں جبکہ گھوٹکی کی 120 ایکڑ اراضی ناجائز قبضوں سے واگزار کروا کر اس پر گندم کاشت کی گئی۔
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے ایم ڈی کو ہدایت کی کہ سندھ سیڈ کارپوریشن کی تمام زرعی زمینوں کی جیو مارکنگ کی جائے، زمین کی حدود، رقبہ اور مقام کو کمپیوٹر میں جی پی ایس اور نقشوں کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا، تاکہ معلوم ہوسکے کہ زمین کہاں واقع ہے اور اس کا رقبہ کتنا ہے، جب کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ادارے کی کارکردگی کو پبلک تک پہنچانے کی بھی ہدایت کی گئی۔
وزیر زراعت نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے کے کسانوں کو مستقبل میں سستے داموں معیاری سرکاری بیج فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس پر کام تیز کیا جائے گا، انہوں نے ہدایت کی کہ سندھ سیڈ کارپوریشن اس مقصد کے لیے مزید موثر انداز میں کام کرے۔
مزید پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کا نیا نظام متعارف



