اسلام آباد (اوصاف نیوز) حکومت کی نئی فیسوں کے نفاذ کے بعد نصابی کتب کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے جس سے طلباء، والدین اور تعلیمی اداروں پر مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
پبلشرز نے کتابوں کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ پبلشرز کے مطابق این او سی اور لائسنس کی تجدید کی فیس میں غیر معمولی اضافے کے بعد کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے جس کا براہ راست اثر طلباء اور والدین پر پڑے گا۔
پبلشرز کا کہنا ہے کہ نئی فیسوں کے نفاذ سے نصابی کتب کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر پرائیویٹ سکولوں کی شائع ہونے والی کتابوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق کتابوں کی این او سی فیس 20 ہزار سے بڑھا کر 150 ہزار جبکہ لائسنس کی تجدید کی فیس 5 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار کر دی گئی ہے۔
پبلشرز نے این او سی اور لائسنس فیس میں اضافے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیسیں کم نہ کی گئیں تو کتابوں کی قیمتوں میں لامحالہ اضافہ ہو جائے گا۔
دوسری جانب والدین اور تعلیمی حلقوں نے بھی ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے گھریلو بجٹ پہلے ہی متاثر ہیں اور اگر نصابی کتابیں مزید مہنگی ہوئیں تو متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں:افسوسناک خبر ،پی ٹی آئی کے 4 افراد جاں بحق
