Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں کے حوالے سے اہم حکومتی فیصلہ

لاہور (اوصاف نیوز)مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کو ایک سال سے زائد عرصے کی بقایا تنخواہیں ادا کر دی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق تنخواہیں وصول کرنے والوں میں 16 خواتین اور 3 اقلیتی ارکانِ اسمبلی شامل ہیں۔ بحال ارکان کو مجموعی طور پر تقریباً 6 کروڑ روپے ادا کیے گئے، جبکہ ہر رکن کو اوسطاً 33 لاکھ روپے کی تنخواہ ملی ہے۔ ارکان کو 13 ماہ اور 19 دن کی تنخواہیں فراہم کی گئیں۔

سیکرٹریٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں وزارتِ قانون کی رائے حاصل کرنے کے بعد کی گئی، تاہم بقایا تنخواہوں پر بھاری ٹیکس بھی عائد کیا گیا۔ اس کے تحت 35 فیصد انکم ٹیکس اور 9 فیصد سرچارج وصول کیا گیا۔ ارکان کی تنخواہوں سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 32 لاکھ روپے ٹیکس کاٹا گیا، جبکہ بقایا تنخواہوں پر 24 لاکھ روپے کی دیگر کٹوتیاں بھی کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 13 مئی 2024 کو مخصوص نشستوں کے ارکان کو معطل کیا تھا، جنہیں بعد ازاں 2 جولائی 2025 کو بحال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن ثمینہ خالد گھرکی چونکہ تین ماہ بعد بحال ہوئیں، اس لیے انہیں صرف 3 لاکھ روپے کی تنخواہ دی گئی۔
مزید پڑھیں‌:موجودہ صورتحال میں جمہوریت نہیں چل سکتی، اسد عمر

یہ بھی پڑھیں