Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ایزی پیسہ کی اپنے صارفین کیلئے بڑی آفر لگا دی

اسلام آباد (اوصاف نیوز) ایزی پیسہ کی جانب سے کیش بیک کی پیشکش کے حوالے سے عوام میں سوالات اٹھنے لگے ہیں کہ آیا یہ اسکیم شرعی طور پر درست ہے یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایزی پیسہ کی جانب سے صارفین کو یہ آفر دی جا رہی ہے کہ اگر وہ اپنے اکاؤنٹ میں 1000 روپے رکھیں اور موبائل لوڈ کروائیں تو انہیں 200 روپے کیش بیک دیا جائے گا۔ اس پیشکش پر کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ اسلامی اصولوں کے مطابق جائز ہے؟

مذہبی ماہرین اور فقہی ماخذ کے مطابق یہ معاملہ قرض پر نفع کے زمرے میں آتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔ ماہرین کے مطابق جب کوئی صارف ایزی پیسہ میں رقم رکھواتا ہے تو وہ دراصل ادارے کو قرض دیتا ہے، اور قرض پر کسی قسم کا مشروط فائدہ یا نفع لینا یا دینا حرام ہے۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اگر کسی کمپنی کے پاس رکھی گئی رقم پر شرط کے ساتھ فائدہ دیا جائے، جیسے کیش بیک، بونس یا اضافی رقم، تو یہ سود کے مشابہ ہو جاتا ہے، چاہے اس کا نام کیش بیک ہی کیوں نہ رکھ دیا جائے۔

انہوں نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ ایسی اسکیموں سے اجتناب کریں جو قرض کے بدلے فائدے پر مبنی ہوں اور اپنی مالی سرگرمیوں میں شرعی اصولوں کو مدنظر رکھیں۔

دوسری جانب ایزی پیسہ کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم صارفین کی بڑی تعداد اس پیشکش کے شرعی پہلو پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:اسرائیل اور امریکا آمنے سامنے ،،،، نیتن یاہو ٹرمپ کیخلاف ہو گیا

یہ بھی پڑھیں