Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاکستانیوں کے ڈیٹا کی چوری کا انکشاف، اہم معلومات جانیں

اسلام آباد (اوصاف نیوز)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پاکستانی شہریوں کا حساس ڈیٹا چوری ہو کر بیرونِ ملک استعمال ہونے اور ڈارک ویب پر فروخت ہونے کا سنگین انکشاف سامنے آیا ہے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر افنان اللہ نے وکیل کے ساتھ جعل سازی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ اٹارنی جنرل آفس کے ایک کنسلٹنٹ کا جعلی پاسپورٹ استعمال کر کے جعل ساز 2023 میں بھارت پہنچ گیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ وکیل اجلاس میں موجود ہے اور اس سے حقائق کی تصدیق بھی کی جا سکتی ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سوال اٹھایا کہ نادرا سے شناختی معلومات کیسے چوری ہوئیں اور ڈیٹا لیک کیسے ہوا؟ اس پر ڈی جی پاسپورٹس نے مؤقف اختیار کیا کہ شہری اپنے پاسپورٹس اور شناختی کارڈز کے کوائف واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے ہیں، جہاں سے ڈیٹا لیک ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔

تاہم سینیٹر افنان اللہ نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نادرا، بینکوں اور ایف بی آر کا ڈیٹا ڈارک ویب پر موجود ہے اور کسی بھی شہری کا ڈیٹا محض 500 روپے میں خریدا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمے کے اندر سے کسی فرد کی شمولیت کے بغیر اس سطح پر ڈیٹا چوری ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں‌:بارشوں اور برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری

یہ بھی پڑھیں