واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں طلاق کے انوکھے کیس نے سب کو چونکا دیا جہاں شوہر نے شادی کے دوران عطیہ کیا گیا گردہ واپس کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایک غیر معمولی کیس میں نیویارک کی سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ انسانی اعضاء نہ تو ازدواجی ملکیت ہیں اور نہ ہی انہیں رقم کے عوض واپس کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر رچرڈ بوٹیسٹا نے 2001 میں اپنی اہلیہ ڈینیئل کی جان بچانے کے لیے اپنا گردہ عطیہ کیا تھا۔بعد ازاں جب یہ شادی ختم ہوئی تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ گردہ ایک مشروط تحفہ ہے جو کامیاب شادی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے طلاق کی صورت میں اسے واپس کیا جائے یا اس کی قیمت ادا کی جائے۔
شوہر نے عدالت میں گردے کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالر مقرر کرنے کی درخواست بھی دائر کی تاہم عدالت نے اسے ناقابل سماعت قرار دے دیا۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ انسانی اعضاء کو ازدواجی ملکیت نہیں سمجھا جا سکتا اور طلاق کی بنیاد پر ان کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس کیس میں انسانی اخلاقیات، طبی اصولوں اور ازدواجی تنازعات کے حساس پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جہاں قانون نے واضح طور پر انسانیت اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دی ہے۔
مزید پڑھیں:معروف فرانسیسی اداکار نے اسلام قبول کر لیا، تصاویر اور پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل


