اسلام آباد (اوصاف نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبلز کی بھرتیوں سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے 90 سال پرانے پولیس میڈیکل رولز پر نظرثانی کا حکم دے دیا۔
وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس محمد کریم خان آغا نے درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس کریم خان آغا نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
درخواست گزار نے پنجاب پولیس میں کانسٹیبلز کی بھرتی کے لیے اوپن میرٹ پر درخواست دی تھی۔ درخواست گزار کو طبی معیارات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے کانسٹیبل کے عہدے کے لیے طبی طور پر نااہل قرار دیا گیا تھا۔
درخواست گزار نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی اور سنگل بنچ نے کانسٹیبلوں کی بھرتی کا حکم دیا تھا تاہم لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے انٹرا کورٹ اپیل میں اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے بعد انہوں نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے معذوری کوٹہ یا دفتری کام کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے لیے امیدوار پر غور کرنے کی تجویز دی اور وژن کے معیار پر پورا نہ اترنے والے امیدوار کی اپیل خارج کر دی۔
عدالت نے آئی جی پنجاب کو امیدوار کے وژن کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ ڈس ایبلٹی اسسمنٹ بورڈ امیدوار کے وژن کا دوبارہ جائزہ لے۔
عدالت نے کہا کہ پولیس فورس میں بھرتی کے لیے فٹنس لازمی شرط ہے۔ آئینی عدالت نے ہوم سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو 90 سال پرانے پولیس میڈیکل رولز پر نظرثانی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس رولز 1934 کے تحت بھرتی کے وقت طبی معائنہ سخت ہونا ضروری ہے۔ جدید میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی کی روشنی میں بصارت سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:فاسٹ بولر کا کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

