اسلام آباد: بیرون ملک ملازمت فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر حکومت پاکستان نے بیرون ملک روزگار کے خواہشمند شہریوں کے لیے اہم ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جعلی ورک ویزا اور فرضی ملازمتوں کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کرنے والے عناصر سرگرم ہیں، اس لیے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ صرف کسی ایجنٹ کی زبانی یقین دہانی پر رقم ادا نہ کی جائے، بلکہ بیرون ملک ملازمت کی ہر پیشکش کی مکمل تصدیق کی جائے۔
بیورو نے واضح کیا کہ ٹریول ایجنسیوں کا دائرۂ کار صرف فضائی ٹکٹوں اور ہوٹل بکنگ تک محدود ہے۔ انہیں بیرون ملک ملازمت دلوانے یا ورک ویزا جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا ایسے دعوؤں سے ہوشیار رہنا ضروری ہے۔
حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک روزگار سے متعلق تمام معلومات اور ملازمتوں کی تصدیق صرف بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے فارن جابز پورٹل یا حکومت سے لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے کریں۔
بیورو کے مطابق سرکاری طریقہ کار اختیار کرنے سے نہ صرف بیرون ملک ملازمت فراڈ سے بچا جا سکتا ہے بلکہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی نقصان سے بھی تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ اگر کوئی فرد یا ادارہ ملازمت یا ورک ویزا کے نام پر غیر قانونی طور پر رقم طلب کرے تو اس کی فوری اطلاع وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو دی جائے تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔



