اسلام آباد (اوصاف نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں حکومت نے شناختی نظام کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت داخلہ نے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اب انگوٹھے کے نشان کے بجائے چہرے کی شناخت کا نظام متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انگوٹھوں کے نشان پر مبنی نظام کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے ذریعے مالیاتی فراڈ کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جس سے شہریوں کی شناخت اور مالی تحفظ کو خطرہ لاحق ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ جعلی انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے سم کارڈز اور دیگر مالیاتی لین دین میں فراڈ کا ارتکاب کیا گیا ہے، اس لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی چہرے کی شناخت کے نظام کی طرف جانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق نیا نظام نہ صرف زیادہ محفوظ ہوگا بلکہ نادرا، ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکنگ سیکٹر میں شناخت کے عمل کو تیز تر اور شفاف بھی بنائے گا۔
کمیٹی کے ارکان نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل سیکیورٹی فیچرز وقت کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے زور دیا کہ نئے نظام کے نفاذ کے دوران شہریوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چہرے کی شناخت کے نظام کے لیے تکنیکی فریم ورک اور قانونی مسودہ جلد تیار کر لیا جائے گا جس کے بعد مرحلہ وار اس پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں:سہیل آفریدی کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا


