مظفرآباد ( نیوز ڈیسک)عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے، مقاصد اور ممکنہ بیرونی فنڈنگ سے متعلق مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے اس تحریک کے کردار پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی بطور پریشر گروپ سامنے آئی ہے، جس کے ساتھ معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ وابستہ ہے۔ ناقدین کے مطابق ریاست کا مجموعی بجٹ 310 ارب روپے ہے، جس میں سے صرف 74 ارب روپے مقامی وصولیوں سے حاصل ہوتے ہیں جبکہ باقی فنڈز حکومتِ پاکستان فراہم کرتی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا کسی بھی شہری کو اپنی مرضی کی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا حق حاصل نہیں۔
تحریک کے بدلتے ہوئے رخ پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تحریک مہنگائی، بجلی کے بلوں اور بنیادی سہولیات کے مسائل پر شروع ہوئی، تاہم وقت کے ساتھ اس کا دائرہ آئینی اور ریاستی معاملات تک پھیل گیا۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تحریک کو بیرونِ ملک سے فنڈنگ حاصل ہو رہی ہے، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
https://www.facebook.com/reel/794087673714067
کچھ مقررین نے شوکت نواز اور دیگر رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ 2016 میں ہائی کورٹ میں دائر ایک مقدمے کا حوالہ بھی دیا گیا جو مہاجرین کے حقوق سے متعلق تھا۔
ادھر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر ایک حساس خطہ ہے جہاں بھارت کی جانب سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اس لیے کسی بھی ایسے بیانیے سے گریز کیا جانا چاہیے جو مقامی آبادی اور مہاجرین کے درمیان خلیج پیدا کرے یا پاکستان کے ساتھ تعلقات پر سوالات اٹھائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں تقسیم کے بجائے اتحاد اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ضرورت ہے، تاکہ خطے کے استحکام اور عوامی مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:باچا خان یونیورسٹی واقعہ، طالب علم کے بھارتی ترانہ گانے پر صارفین کا شدید ردعمل سامنے آگیا
