صوابی (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی خراب صحت اور جیل میں طبی سہولیات کے فقدان کے خلاف صوابی انٹر چینج پر کارکنوں کے احتجاج کے دوران موٹر وے کی بندش کے باعث 3 گھنٹے ٹریفک میں پھنسی ایمبولینس میں خاتون مریضہ دم توڑ گئی۔
نجی ٹی وی نیوز کے مطابق صوابی انٹر چینج پر دھرنے کے باعث اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس میں موجود شیریں کوٹھو نوشہرہ کی خاتون مریضہ انور بیگم دم توڑ گئی، ایمبولینس تین گھنٹے تک دھرنے میں پھنسی رہی۔
پی ٹی آئی کارکنوں نے مبینہ طور پر خاتون کے بیٹے اور شوہر کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران ایمبولینس ڈرائیور قادر خان بھی زخمی ہوگیا۔
صوابی انٹر چینج پر احتجاج کے باعث موٹروے دوسرے روز بھی بند رہنے کے باعث پشاور، لاہور اور راولپنڈی جانے والی گاڑیوں کی صوابی ٹوپی روڈ سے آمدورفت جاری رہی جب کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے دھرنے کے دوران موٹروے کے اطراف سے اینٹیں ہٹا کر سڑک پر رکھ کر موٹر وے کو ٹریفک کے لیے بند کردیا۔
اس موقع پر عوام اور مسافروں کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو کس مقصد کی سزا دی جا رہی ہے، ایسے اقدامات سے صوبے کے عوام میں پی ٹی آئی سے نفرت پیدا ہو رہی ہے، آئے روز کا احتجاج اور خیبرپختونخوا کی سڑکیں اور شاہراہیں بلاک کرنا کہاں کا انصاف ہے۔
عوام کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کی رہائی کا ایک ہی راستہ ہے، پی ٹی آئی کے ارکان اپنی صوبائی، قومی اور سینیٹ کی نشستوں سے مستعفی ہو جائیں اور سروں پر کفن باندھ کر اڈیالہ جائیں اور رہائی تک احتجاج جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد کے نتیجے میں عمران خان کبھی جیل سے باہر نہیں آسکیں گے، ان کی جدوجہد عمران خان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:حکومت کا ہنگامی اقدام،عمران خان کے طبی معائنے کے لیے پینل تیار


