اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ نے پی آئی اے ملازم کو 24 سالہ پینشن ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ایم ڈی پی آئی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ درخواست پی آئی اے کے سابق ملازم مصطفیٰ انصاری نے دائر کی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ میرے موکل 2002 میں اسکیم کے تحت ریٹائر ہوئے تھے اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر پینشن اور دیگر مراعات فراہم کی گئی تھیں تاہم گزشتہ 24 سال کے بقایا جات ادا نہیں کیے جا رہے۔
جسٹس شاہدوحید نے کہا کہ کیا ملازم کو پینشن نہ دینے کے خلاف کوئی قانون ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ تمام ملازمین پینشن لے رہے ہیں۔
پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پینشن کی ادائیگی کے حوالے سے ادارے سے ہدایات لینا ہوں گی۔
عدالت نے ملازم کو 24 سال کی پینشن ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل پینشن ادا نہ کی گئی تو ایم ڈی ذاتی طور پر پیش ہوں۔
سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔
مزید پڑھیں:منی لانڈرنگ کیس،فضیلہ عباسی کے خلاف بڑا عدالتی حکم جاری
