تل ابیب (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مجسمہ توڑنے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو برہم ہوگئے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان رواداری اور باہمی احترام کی اقدار کو اہمیت دیتا ہے اور ہمارے ملک میں تمام مذاہب کو فروغ دیا جاتا ہے۔
As the Jewish state, Israel cherishes and upholds the Jewish values of tolerance and mutual respect between Jews and worshippers of all faiths. All religions flourish in our land and we view members of all faiths as equals in building our society and region.
Yesterday, like the…
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) April 20, 2026
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ ایک اسرائیلی فوجی نے جنوبی لبنان میں ایک کیتھولک مذہبی علامت کو نقصان پہنچایا، میں اس فعل کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی حکام اس معاملے کی مجرمانہ تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار شخص کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے کی شمالی کمان کی طرف سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور طریقہ کار کے مطابق اسے نمٹا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:تہلکہ خیز ویڈیو،مفتی عبدالقوی ڈانس پارٹی میں،سوشل میڈیا پر طوفان

