(اوصاف نیوز) جعلی سونے کے بڑے بڑے سنگل گلے میں ڈال کر شہرت حاصل کرنے والے ٹک ٹاکر نے سی ٹی ڈی پولیس کے اہلکار کے لاکھوں روپے ہڑپ کر لئے۔ پولیس نے ٹک ٹاکر کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے ہیں۔
جعلی سونے کے بڑے بڑے چین گلے میں ڈال کر شہرت حاصل کرنے والے ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا ایک اور مبینہ فراڈ کا کیس سامنے آگیا۔ اس مرتبہ کاشف ضمیر پر ہیومن سمگلنگ میں ملوث ہونے کا سنگین الزام ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ کاشف ضمیر نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ/ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک اہلکار سے لاکھوں روپے کا فراڈ کیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے۔
سی ٹی ڈی کے اہلکار دوست محمد نے بتایا کہ ٹک ٹاکر کاشف ضمیر نے ان سے 19 لاکھ بٹور لیے ہیں، یہ پیسے انہیں اٹلی بھیجنے کا جھانسہ دے کر وصول کیا۔
رپورٹ کے مطابق رقم وصول کر کے کاشف ضمیر سی ٹی ڈی اہلکار کو مسلسل دھوکا دیتا رہا۔ ایک سال گزرنے کے بعد اس نے پولیس اہلکار کا فون ہی سننا بند کر دیا ہے، جس پر سی ٹی ڈی اہلکار دوست محمد اس فراڈ کو تھانے تک لے گئے۔ سی ٹی ڈی اہلکار کی درخواست پر لاہور کے تھانہ گلبرگ میں کاشف ضمیر کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا۔
تھانہ گلبرگ میں مقدمے کے اندراج کے بعد ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کی گرفتاری کے لیے ڈیفنس میں واقع ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔
پولیس اہلکار دوست محمد سی ٹی ڈی کراچی میں تعینات ہیں اور کاشف ضمیر کراچی جاکر ان کے گھر پر قیام کرتا رہا ہے۔فراڈ کا شکار ہونے والے دوست محمد نے بتایا کہ کاشف ضمیر سے دوسال قبل ٹک ٹاک پر دوستی ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں:ٹریفک جرمانوں میں کمی، پنجاب اسمبلی سے بل منظور
