برطانیہ کے قومی صحت کے نظام National Health Service (NHS) میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث اسپتالوں میں نرسوں کو ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر طبی خدمات انجام دینے پر تعینات کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے اہم خدشات سامنے آئے ہیں۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق “ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز” کے نام سے معروف تجربہ کار نرسیں ایمرجنسی وارڈز، انتہائی نگہداشت، نوزائیدہ بچوں کے یونٹس اور دیگر اہم شعبوں میں ڈاکٹروں کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً آدھے اسپتال عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے ان نرسوں پر انحصار کر رہے ہیں۔
طبی تنظیم British Medical Association نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے علاج کے معیار پر اثر پڑ سکتا ہے اور بعض صورتوں میں مریضوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ ایک عارضی حل ہے جو طویل مدت میں نظامِ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب NHS انگلینڈ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگرچہ یہ نرسیں اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں، تاہم انہیں ڈاکٹروں کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ معاون عملے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:غزہ کے ملبوں میں محبت کی روشنی، 300 جوڑوں کا اجتماعی نکاح امید کی داستان بن گیا
رپورٹس کے مطابق بعض اسپتالوں میں یہ “ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز” ڈاکٹروں کے برابر شفٹیں بھی کر رہے ہیں اور ایمرجنسی خدمات کے دوران انہیں وہی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں جو عام طور پر ڈاکٹر انجام دیتے ہیں۔
اس کے برعکس Royal College of Nursing نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نرسیں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خود مختار پیشہ ور ہیں، جو محفوظ اور معیاری طبی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور انہیں ڈاکٹروں کے متبادل کے بجائے ٹیم کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ ڈاکٹروں کی کمی ہے، جس کا مستقل حل تلاش کیے بغیر اس طرح کے عارضی اقدامات مریضوں کے نظامِ علاج پر طویل المدتی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

