کراچی (نیوز ڈیسک) صومالیہ کے قریب سمندری حدود میں بحری قزاقوں نے تجارتی جہاز پر حملہ کر کے 11 پاکستانی شہریوں سمیت عملے کو یرغمال بنا لیا۔
اطلاعات کے مطابق جہاز میں عملہ اور مالک سمیت کل افراد کی تعداد 25 ہے جب کہ مسلح حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں۔
جاں بحق ہونے والوں میں کراچی کا 42 سالہ یاسر خان بھی شامل ہے۔ ان کی اہلیہ کے مطابق جہاز پر حملہ 21 اپریل کو ہوا تھا جس کے بعد عملے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس نے بتایا کہ اس نے آخری بار اسی دن اپنے شوہر سے بات کی تھی جس میں اس نے اسے بتایا تھا کہ وہ کئی دنوں سے بھوکا ہے اور بہت مشکل حالات میں ہے۔
اہلیہ نے انکشاف کیا کہ جہاز پر حملہ آور AK-47 رائفلوں اور راکٹ لانچروں سے لیس تھے، جن سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اپنے شوہر سمیت تمام مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے اقدامات کرے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام واقعے سے آگاہ ہیں اور صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ صومالیہ کے ساحلی علاقے ماضی میں بحری قزاقی کے لیے بدنام رہے ہیں جہاں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔
متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے جلد از جلد ایکشن لینے اور مغویوں کو بحفاظت واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ان کے اہل خانہ کی پریشانیاں ختم ہوسکیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا بیٹا انتقال کر گیا


