پشاور (نیوز ڈیسک) رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کو چیلنج کرنے جا رہا ہوں۔ ایک بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تباہی اور بیڈ گورننس کا حشر عام علم ہے، کے پی کے ہیلتھ سیکٹر اور اسپتالوں میں ادویات کم قیمتوں پر خریدی اور فروخت کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو میرے چیلنج کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ ایسا نہ کرو، میں اب علی امین گنڈا پور کی بات کو مسترد کر رہا ہوں اور الیکشن کو چیلنج کروں گا۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی بنام نواز شریف کیس میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ دے چکی ہے، 2018 میں بانی نواز شریف کے سینیٹر ٹکٹ پر عدالت گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سزا یافتہ شخص جیل سے احکامات نہیں دے سکتا، بانی پی ٹی آئی کے حکم پر سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ کے باہر نامزدگی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نامزدگی کو عدالت میں چیلنج کر رہا ہوں، امید ہے سہیل آفریدی گھر جائیں گے، میری کوئی ذاتی دشمنی نہیں لیکن سہیل آفریدی کو لانے کا فیصلہ غلط تھا، انہیں لانے کے فیصلے سے پارٹی ٹوٹ گئی ہے۔
شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے پارٹی کی مزاحمتی قوت کو پستی پر پہنچا دیا، اگر وہ مزید چند ماہ رہے تو پارٹی تنکے کی طرح بکھر جائے گی، پارٹی کو بچانا ہے تو سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجہ وغیرہ کو سائیڈ لائن کرنا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈا پور کو اختیار دیا جائے، بیرسٹر گوہر اور علی امین بااختیار ہوں تو 3 ماہ میں بانی سامنے آجائے گی۔
مزید پڑھیں:سپر اسٹار بابر اعظم نے مداح کی دیرینہ خواہش پوری کر دی،ویڈیو وائرل
