اسلام آباد(اوصاف نیوز) مسابقتی اپیل ٹریبونل (سی اے ٹی) نے کنگڈم ویلی (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کمپنی پر عائد 3 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا ہے۔ ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کمپنی نے صارفین کو منصوبے کے مقام اور منظوری کی حیثیت سے متعلق گمراہ کیا۔

تفصیلات کے مطابق، ٹریبونل نے 27 مئی 2025 کو جاری اپنے فیصلے میں کہا کہ کنگڈم ویلی نے اپنے ہاؤسنگ منصوبے کو “کنگڈم ویلی اسلام آباد” کے نام سے مشتہر کیا، حالانکہ منصوبہ دراصل موضع چورا، راولپنڈی میں واقع ہے۔ کمپنی نے بل بورڈز، سوشل میڈیا اور دیگر تشہیری ذرائع کے ذریعے اس منصوبے کو اسلام آباد میں واقع ظاہر کیا تاکہ زیادہ قیمت وصول کی جا سکے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ منصوبے کو باضابطہ منظوری حاصل ہونے سے پہلے ہی “این او سی منظور شدہ” قرار دے کر بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی، جو صارفین کو دھوکہ دینے کی ایک منظم حکمت عملی تھی۔
ٹریبونل نے کمپنی کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اس نوعیت کی مارکیٹنگ عام رواج ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر خلاف ورزی کھلے عام ہو رہی ہو تو دھوکہ دہی کا پہلو مزید واضح ہو جاتا ہے، اور “دو غلطیاں کبھی ایک درست نہیں کرتیں”۔
سی اے ٹی نے مسابقتی ایکٹ کے سیکشن 10(2)(b) کے تحت سی سی پی کے مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کو غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنا سنگین خلاف ورزی ہے۔ ٹریبونل نے منصوبے کے مقام کی غلط بیانی کو “سنگین ڈیفالٹ” قرار دیا۔
فیصلے میں یہ بھی ہدایت کی گئی کہ اگر کمپنی 20 دن کے اندر جرمانہ جمع نہ کروائے تو سی سی پی کا اصل حکم مکمل طور پر نافذ ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں کمپنی کو مزید مالی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں گمراہ کن اشتہارات اور جعلی دعوؤں کے خلاف ایک اہم نظیر ثابت ہوگا، جبکہ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سی سی پی کے سخت مؤقف کو مزید تقویت ملے گی۔
مزید پڑھیں:سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی
