پشاور (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا میں مالی سال 2025 کی آڈٹ رپورٹ میں زکوٰۃ فنڈ کے استعمال میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 419 سرکاری ملازمین نے زکوٰۃ فنڈ سے 53 لاکھ روپے سے زائد رقم حاصل کی، حالانکہ وہ اس کے اہل نہیں تھے۔ ان میں گریڈ 1 سے 17 تک کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین شامل ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاق کے 317، خیبر پختونخوا کے 33، پنجاب کے 6، سندھ کے 5 اور بلوچستان کے 3 ملازمین نے زکوٰۃ فنڈ سے رقم حاصل کی۔
تفصیلات کے مطابق 15 ملازمین نے 30 ہزار روپے جبکہ 404 ملازمین نے 12 ہزار روپے فی کس حاصل کیے۔ مزید یہ کہ گزارا الاؤنس اور شادی گرانٹ کی مد میں بھی کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
آڈٹ حکام نے تمام رقوم کی ریکوری اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زکوٰۃ کمیٹیوں میں سرکاری ملازمین کی شمولیت بھی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 111 سرکاری ملازمین نے کمیٹی اراکین کی حیثیت سے بھی الاؤنسز حاصل کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 1 کروڑ 95 لاکھ روپے بنتی ہے۔
مزید پڑھیں:حکومت سندھ کا پسماندہ علاقوں اور صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ


