مرکزی بینک ایران نے ایرانی ریال(Irani Rial) خریدنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلند نرخوں پر غیر ملکی کرنسی خریدنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ مارکیٹ میں صورتحال کسی بھی وقت تبدیل ہو سکتی ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر مسلسل دباؤ کا شکار ہے اور ایک امریکی ڈالر کی قیمت بڑھ کر تقریباً 18 لاکھ 70 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی کرنسی کی کمزور ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
بینک حکام کا کہنا ہے کہ اگر مارکیٹ میں توقعات تبدیل ہوئیں، غیر ملکی کرنسی کی سپلائی میں اضافہ ہوا یا مرکزی بینک نے مؤثر مداخلت کی تو ڈالر کی قیمت میں کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ نرخوں پر ڈالر خریدنے والے افراد کو مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر یورو اور برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں بھی نمایاں کم ہوئی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں ایک یورو کی قیمت تقریباً 22 لاکھ 30 ہزار ریال جبکہ ایک برطانوی پاؤنڈ 25 لاکھ 80 ہزار ریال تک پہنچ گیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی کی مسلسل گراوٹ پہلے ہی دباؤ کا شکار ایرانی معیشت کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق ریال کی کمزور ہوتی قدر مہنگائی میں اضافے، درآمدی اشیا کی قیمتوں میں تیزی اور عوامی قوتِ خرید میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔
نشے میں ڈرائیونگ ،مایہ ناز کرکٹرنے غلطی تسلیم کرلی
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایران کی معیشت کو علاقائی کشیدگی، بین الاقوامی پابندیوں اور تجارتی دباؤ جیسے عوامل کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے دوران محدود تجارتی سرگرمیوں کے باعث کچھ عرصے تک ریال نسبتاً مستحکم رہا، تاہم حالیہ دنوں میں اس کی قدر میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود امریکی بحری دباؤ اور تیل کی برآمدات میں رکاوٹوں نے ایرانی معیشت پر مزید بوجھ ڈالا ہے، کیونکہ تیل کی برآمدات حکومت کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔




