Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف سازش ناکام

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست مخالف سازش ناکام

مظفر آباد ( اوصاف نیوز) آئی جی پولیس آزاد جموں و کشمیر ملک لیاقت علی نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے اور موجودہ حالات میں قانون کی حکمرانی قائم رکھنا اور امن و امان کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ہمارا پختہ عزم ہے۔ اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں آئی جی پولیس نے ریاست کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ پولیس عوام کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور کسی بھی شرانگیز جتھے کو عوام کا امن و سکون تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آئی جی پولیس ملک لیاقت علی نے موجودہ صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے اِس بات کی تصدیق کی کہ اللہ کے فضل و کرم سے آزاد جموں و کشمیر کے تمام داخلی اور خارجی راستےمکمل طور پر کھلے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میرپور ریجن میں تقریباً 75% دکانیں کھلی ہیں اور کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق چل رہا ہے، جبکہ مظفر آباد ریجن میں بھی ہر طرف ٹریفک اور معمولاتِ زندگی بحال ہیں۔ تاہم، راولا کوٹ میں کچھ مقامات پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے دھرنا دے رکھا ہے، جہاں مسلح شرپسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ یہ شرپسند مختلف جگہوں پر مورچہ بند ہیں اور موقع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ کرتے ہیں۔ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مناسب تعداد میں عوام کے تحفظ اور روڈ نیٹ ورک کو بحال رکھنے کے لیے موقع پر موجود ہیں۔

ملک لیاقت علی نے انکشاف کیا کہ اب تک مجموعی طور پر 572 شرپسندوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ پولیس ملازمین پر حملے کرنے اور انہیں شہید کرنے کے سابقہ مقدمات کو ریوائیو کر کے 34 کے قریب مزید گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ 155 کے قریب خطرناک شرپسندوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کر دیا گیا ہے۔ آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ کالعدم تنظیم کے چند عناصر نے ذاتی یا بیرونی ایجنڈے کے تحت عوامی حقوق کے نام پر حالات خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی، کیونکہ ان عناصر کو لاشوں کی ضرورت تھی تاکہ وہ ان پر سیاست چمکا سکیں۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے 95 سے زائد جوان زخمی کروانے اور گولیوں کے زخم کھانے کے باوجود انتہائی صبر اور تحمل کا مظاہرہ کر کے اِس سازش کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جو بچے یا معصوم لوگ پرامن احتجاج کا سوچ کر آئے تھے اور بعد میں مسلح جتھوں کی فائرنگ اور تشدد دیکھ کر واپس جانا چاہتے تھے، پولیس نے اِسے فسیلیٹیٹ کرتے ہوئے انہیں محفوظ راستہ فراہم کیا اور بچوں کو بحفاظت ان کے والدین کے حوالے کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شرپسندوں کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور روڈ سچویشن کی باقاعدہ اپ ڈیٹ کے لیے پولیس کے آفیشل پیج سے رجوع کریں۔ آئی جی پولیس نے تمام محبِ وطن، امن پسند اور پاکستان و کشمیر سے محبت کرنے والے عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اِس شرانگیزی کو مسترد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آگے محرم الحرام کے سلسلے میں مجالس اور جلوسوں کے لیے ایکٹو اور پیسو (Active & Passive) سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ پکٹنگ اور ہینگ اراؤنڈ سیکیورٹی کے تمام اقدامات یقینی بنائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کی عبادات اور جان و مال کا تحفظ ہر صورت برقرار رہے۔

اِس سے قبل، سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت (بشمول خواجہ مہران، شوکت نواز میر، سردار امان اور عمر نذیر) کے باغیانہ اور کشمیری جوانوں کو فوج کے خلاف اکسانے والے بیانات کی وجہ سے یہ تحریک سیاسی کے بجائے ایک باغی گروہ بن چکی ہے۔ خواجہ مہران کے خلاف اشتعال انگیز بیان پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی ہے۔ کمیٹی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے راولاکوٹ کے مظاہرین بند گلی میں پھنس چکے ہیں اور طویل ہڑتالوں سے تاجر برادری کا معاشی پہیہ جام ہو چکا ہے۔ کور کمیٹی کے اہم رکن راجہ امجد ایڈووکیٹ اور انجم زمان اعوان کی تنظیم سے لاتعلقی کے بعد کئی دیگر سرکردہ رہنما بھی کمیٹی کے پاکستان مخالف ایجنڈے سے تنگ آ کر راہیں جدا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں‌:اوورسیز جانے والوں کیلئے بڑی خبر، بی ای او ای کی اہم اطلاع سامنے آگئی

یہ بھی پڑھیں