لاہور: ایل پی جی کی قیمت میں سرکاری نرخ مقرر ہونے کے باوجود لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ مارکیٹ میں سرکاری نرخ اور فروخت کی اصل قیمت میں نمایاں فرق سامنے آنے کے بعد حکومت نے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حکومت نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 308 روپے فی کلو مقرر کر رکھی ہے، تاہم مختلف علاقوں میں یہ گیس 480 سے 500 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں 10 سے 20 روپے فی کلو تک اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے لیے اضافی مالی بوجھ بن چکی ہیں، خصوصاً وہ خاندان جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں مصنوعی اضافے اور بلیک مارکیٹنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری نرخ نامے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو سرکاری نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر قیمتوں میں غیر قانونی اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو نگرانی کا نظام مزید سخت کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لائسنس معطل کرنے سمیت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
