اسلام آباد(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان بھی شامل تھے۔ مقدمے کی سماعت کے آغاز پر درخواست گزار جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے بنچ کے سائز پر اعتراض کیا۔ 103 ملزمان زیر حراست ہیں، ان کے اہل خانہ عدالتی کارروائی میں شامل ہونا چاہتے ہیں چنانچہ اہل خانہ کو سماعت دیکھنے کی اجازت دیں۔
جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ کمرہ عدالت بھرا ہوا ہے، کہاں بیٹھیں گے؟ عدالت میں آنے پر کوئی اعتراض نہیں، ان کا کیس دیکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: گورنر پنجاب سے اختلافات ،ایچی سن کالج کے پرنسپل نے استعفیٰ دیدیا، تفصیل دیکھیں
بعد ازاں جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے وکیل نے 9 رکنی لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی متفرق درخواست میں 9 رکنی لارجر بنچ بنانے کی بھی درخواست کی تھی۔ عدالتی کمیٹی سے 9 رکنی بینچ بنانے کی استدعا کی۔
جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لینے کی استدعا کی۔ عدالت اپیلیں واپس لینا چاہتی ہے، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کابینہ قرارداد پر اپیلیں واپس نہیں لے سکتی، مناسب ہو گا کہ اپیلیں واپس لینے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کی جائے۔
بعد ازاں فوجی عدالتوں کے خلاف درخواست گزاروں نے بینچ کے ساتھ ساتھ نجی وکلا پر اعتراض کیا۔


