گوجرانوالہ – گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں 51 ملزمان کو 5,5سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔
رپورٹس کے مطابق اے ٹی سی کی ایک خاتون جج نے سنٹرل جیل میں سماعت کے دوران فیصلہ سنایا۔ سزا پانے والوں میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ایم پی اے کلیم اللہ خان بھی شامل ہیں۔
انہیں سڑکیں بلاک کرنے، گوجرانوالہ کینٹ میں حساس تنصیبات پر حملے اور دیگر الزامات میں سزا سنائی گئی ہے۔ ملزمان کو قانون کی آٹھ مختلف دفعات کے تحت 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
مزید پڑھیں 9 مئی مقدمات ، رہائی پانیوالے 13 پی ٹی آئی کارکنان اڈیالہ جیل کے باہر ہی سے دوبارہ گرفتار
گوجرانوالہ اے ٹی سی نے 9 مئی کو سخت سیکیورٹی کے درمیان سینٹرل جیل میں تین ماہ تک کیس کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں نے 9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد پرتشدد مظاہروں کا اعلان کیا۔ مشتعل سیاسی کارکنوں نے کینٹ کے علاقے میں بھی گھس کر مختلف سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کینٹ میں حساس تنصیبات پر بھی حملہ کیا، اس وقت کی وفاقی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا کیونکہ اس مہم میں پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنما گرفتار کیے گئے تھے۔


