اسلام آباد(نیوزڈیسک)وہ ڈگری جو کسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے اعزازی طور پر کسی تعلیمی ادارے کی جانب سے دی جائے، اعزازی ڈگری کہلاتی ہے، یہ ایک اعزاز ہوتا ہے نا کہ حقیقی تعلی ڈگری، جیسے کہ ایک میڈل یا ٹرافی وغیرہ۔ یہ ڈگری عام طور پر ڈاکٹریٹ ہوتی ہے یا اس سے نیچے ماسٹرز کی ہوتی ہے۔
یہ ڈگری کسی بھی شعبے میں بہترین خدمات دینے والے شخص کو دی جاسکتی ہے۔ اس کیلئے ہولڈر کا تعلیم یافتہ ہونا لازمی نہیں۔ یہ صرف علامتی طور پر دی جاتی ہے۔ یہ کسی بھی ایسے شخص کو دی جا سکتی ہے جس کا تعلیمی ادارے سے کوئی سابقہ تعلق نہ رہا ہو یا کوئی پچھلی روایتی تعلیم بھی نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:فلم کی ناکامی پر میں نے سلمان خان سے معذرت کی تھی، آیوش شرما
کیونکہ اس کے نام سے ہی پتا چلتا ہے کہ یہ ”اعزازی“ ہے تو ظاہر ہے اس کا سوائے اس کے کوئی فائدہ نہیں کہ یہ ایک اعزاز ہے۔ ایسی ڈگریوں کو نصاب زندگی (CV) میں بطور ایوارڈ درج کیا جانا چاہئیے نہ کہ تعلیمی سیکشن میں۔
اگر کوئی سوچ رہا ہو کہ بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں وقت لگانے کی بجائے اس طریقے سے ڈائریکٹ پی ایچ ڈی کر لی جائے تو ایسا ممکن نہیں، ہر کوئی اسے خود سے حاصل نہیں کرسکتا بلکہ یونیورسٹیز اور ادارے خود منتخب کرتے ہیں کہ یہ کسے دی جائے۔
جیسا کہ بتایا گیا یہ محض علامتی ڈگری ہے۔ اس کا کسی جاب یا نالج سے کوئی تعلق نہیں۔ ویسے بھی جس شخص کو یہ ملتی ہے وہ جابز اور معاشی تنگی کے معاملات سے بہت اوپر پہنچ چکا ہوتا ہے۔
