Search
Close this search box.
بدھ ,17 جون ,2026ء

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کااہم بیان سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہاہے کہ ایرانیہ صدر کا دورہ پری پلان تھا اس پر کافی دنوں سے کا م جاری تھا، ہم نے جنوری سے اب تک ایک لمبا سفر جلدی اور مثبت انداز میں مکمل کیا ہے اور یہ اس لئے ہی ممکن ہو ا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگومیں انہوں‌نے کہاکہ ایرانیہ صدر کا دورہ پری پلان تھا اس پر کافی دنوں سے کا م جاری تھا، پاکستان اور ایران کو ایک جیسے چیلنچز کاسامنا ہے جس میں سب سے بڑا چیلنچ دہشتگردی کا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان گشیدگی بھی دیکھی گئی ۔ اس گشیدگی کو دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر بات کریں ۔

ترجمان دفترخارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بہت سے معاہدے ہوئے جو کہ لانگ ٹرم کارپوریشن کا نتیجہ ہے ۔ ان معاہدوں نے ایک روڈ میپ تیار کیا ہے جس پر جلد کام بھی شروع ہو جائے گا ، یہ معاہدے دونوں ممالک کی ضرورت بھی تھے ۔

پی ایل اے کے حوالے سے ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے جنوری سے اب تک ایک لمبا سفر جلدی اورمثبت انداز میں مکمل کیا ہے اور یہ اس لئے ہی ممکن ہو ا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں، پاکستان اور ایران کے سیکیورٹی معاملات پر بات چیت ہوئی ہے، دونوں ممالک کی خواہش ہے کہ مل کر دہشتگری کے خلاف ایکشن لیں ۔

ممتاز زہرا کا مزید کہنا تھا کہ سعودیہ عرب کے وفد کے ساتھ تجارت اور انوسمٹ پر گفتگو ہوئی ہے ، ایران کے ساتھ بھی تجارت اور معیشت پر بات چیت ہوئی ہے ، پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ ہمارے تمام ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں ۔

ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے بہت سے مسائل پر یکساں خیالات ہیں ،خاص طور پر غزہ کے معاملے پر دونوں ممالک کا اصولی موقف ہے ، ایران نے کشمیر کے حوالے سے بھی ہمیشہ بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں