اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی حکومت نے8لاکھ سے زائد زیر التواء پاسپورٹوں کا بیک لاگ ختم کرنے کیلئے پرنٹنگ اور ای پاسپورٹ مشینوں کی خریداری کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیئے۔حکام روزانہ 20 ہزار سے 25 ہزارپاسپورٹ پرنٹ کر رہے ہیں جبکہ روزانہ اوسطاً 40ہزار سے 45 ہزار درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔
ایمل ولی خان اے این پی کے نئے صدر منتخب
درخواست دہندگان کی جانب سے پاکستانی پاسپورٹ کے اجراء میں نمایاں تاخیر کی شکایت کے بعد سامنے حکومتی خریداری کا فیصلہ سامنے آیا۔لیمینیشن پیپر کے حصول کیلئے بین الاقوامی سطح پر ٹینڈرز بھی جاری کردیئے۔مارچ کے شروع میں یہ اطلاع ملی تھی کہ پاکستانی پاسپورٹ کے درخواست دہندگان کو اپنے پاسپورٹ حاصل کرنے میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، 5لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو دو سے تین ماہ کے انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
لیمینیشن پیپر کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے پچھلے سال بھی اسی طرح کا ایک مسئلہ اجاگر کیا گیا تھا۔محکمہ پاسپورٹ اور امیگریشن نے تاخیر کی وجہ سیاہی اور لیمینیشن پیپر کی کمی کو قرار دیا۔ لیکن یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایک بار یہ سپلائیز دوبارہ بھرنے کے بعد، تمام زیر التواء پاسپورٹ جون تک کلیئر کر دیئے جائیں گے۔پاسپورٹ کے اجراء میں تاخیر کی وجہ سے پاکستانیوں کی کافی تعداد کو تکلیف ہوئی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو حج اور عمرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ – آئی این پی




