اسلام آباد: اسلام آباد کی عدالت کے باہر خاور مانیکا کو تھپڑ مارنے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور وکلا کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ناجائز نکاح کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے احاطے میں خاور مانیکا کو زدوکوب کیا۔
اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی گئی اور تھپڑ مارنے کے واقعے کے 12 پولیس اہلکار گواہ بن گئے۔
ایف آئی آر میں پی ٹی آئی کے وکلاء نعیم پنجوٹھا، علی اعجاز بٹر، زاہد بشیر ڈار، عثمان گل اور انصار کیانی کے علاوہ 25 دیگر افراد کے نام شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی تشکیل نو کا فیصلہ کرلیا
ایف آئی آر کے مطابق ایڈووکیٹ برکی عدالت کے باہر پی ٹی آئی کے وکلا اور کارکنوں کی قیادت کر رہے تھے۔ سماعت ختم ہوئی اور خاور مانیکا باہر آئے تو ایڈووکیٹ برکی نے شور مچایا کہ مانیکا نے ان کے لیڈر عمران خان کے خلاف گواہی دی ہے اس لیے انہیں زندہ نہ چھوڑا جائے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ برکی نے پھر خاور مانیکا کو دھکا دیا اور نعیم پنجوٹھا ایڈووکیٹ نے ان پر گھونسوں سے حملہ کیا۔ادھر سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے احاطے میں خاور مانیکا پر حملہ کرنے والے وکلا کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کے لائسنس منسوخ کیے جائیں، کسی وکیل کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں۔
