پشاور (نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا میں نجی اسکولوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم حب آف پرائیویٹ ایجوکیشن(ہوپ) نے پیر کو نجی تعلیمی اداروں پر فکسڈ ٹیکس کے نفاذ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسے تعلیم پر حملہ قرار دے دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت کی طرف سے لگائے گئے اس تعلیم مخالف ٹیکس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ہوپ (خواتین) کے پی کی جنرل سیکرٹری سدرہ المنتہیٰ نے کہا لاکھوں بچوں کو تعلیم دے کر شرح خواندگی کو بڑھانے میں نجی سکول بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں سرکاری اسکول 5000-7500 روپے فی بچہ تعلیم فراہم کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، وہیں پرائیویٹ اسکول کم سے کم فیس پر معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ حکومت ان پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے مزید سکول کھولنے کی سہولت فراہم کرے۔
نئے ٹیکس کے علاوہ، پرائیویٹ سکولز پہلے ہی صوبائی حکومت کو متعدد دیگر ادائیگیوں سے مشروط ہیں، جن میں ریگولیٹری اتھارٹیز کے ساتھ رجسٹریشن کی تجدید کی فیس، انکم ٹیکس، پروفیشنل ٹیکس اور دیگر شامل ہیں۔
ہوپ ے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ 90% پرائیویٹ سکول 3000 روپے ماہانہ سے کم فیس لیتے ہیں، بمشکل اپنے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ اس نئے ٹیکس سے ان کی بقاء کو خطرہ ہے اور وہ بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور پر زور دیا کہ وہ اس ٹیکس پر نظر ثانی کریں، اگر ان کے تحفظات کو فوری طور پر دور نہ کیا گیا تو اسکولوں، طلباء اور والدین کی جانب سے سخت احتجاج کیاجائیگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت نے ٹیکس واپس نہ لیا تو سکولوں کو بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

