Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

عدالت نے یوٹیوبر اور اینکرپرسن عمران ریاض کی رہائی سے متعلق فیصلہ سنا دیا

لاہور کی کینٹ کچہری نے یوٹیوبر اور اینکرپرسن عمران ریاض کو کار سرکار میں مداخلت کا مقدمہ سے ڈسچارج کر دیا، عدالتی حکم کے بعد اینکرپرسن کو رہا کر دیا گیا۔پولیس نے آج صحافی عمران ریاض کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا تھا۔پولیس نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کو ایف آئی آر میں نامزد ہونے پر گرفتار کیا گیا، ملزم کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کو گرفتار کیا جانا ہے، لہٰذا ملزم کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔وکیل میاں علی اشفاق نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عمران ریاض پر درج مقدمہ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

بعد ازاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے عمران ریاض کے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا، کچھ دیر بعد فیصلہ سناتے ہوئے اینکر پرسن کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے جاری حکم نامے میں لکھا کہ ایف آئی آر میں درج جرم اور ریمانڈ پیپر کی نوعیت قابل ضمانت ہے، لہٰذا قانون کے مطابق جسمانی ریمانڈ نہیں دیا جاسکتا، اور تفتیشی افسر کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

حکم نامے کے مطابق یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ ملزم کے خلاف ثبوت ناکافی ہیں، لہذا عمران ریاض کو کیس سے ڈسچارج کیا جاتا ہے، تفتیشی افسر کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر ملزم کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہے تو ان کو رہا کیا جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری نے یوٹیوبر اور اینکرپرسن عمران ریاض پر امانت میں خیانت کا مقدمہ ختم کر دیا جبکہ پولیس نے انہیں ایک اور مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔اس سے ایک روز قبل لاہور کی ماڈل ٹاؤن کچہری نے اینکر پرسن عمران ریاض کے خلاف امانت میں خیانت کے مقدمے میں ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

 مزید پڑھیں:  خواتین کو ہراساں کرنے سے بچاتے ہوئے ایس پی سٹی اسلام آباد حملے میں زخمی

یہ بھی پڑھیں