Search
Close this search box.
جمعه ,19 جون ,2026ء

خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کر دی گئی

پشاور (ویب ڈیسک) صوبائی حکومت نے پنشن اصلاحات کے لیے خیبرپختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کرتے ہوئے موجودہ پنشن سسٹم کو تبدیل کر کے نیا نظام متعارف کرادیا۔ جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔

نئی سکیم جون 2022 کے بعد آنے والے تمام ملازمین پر لاگو تھی لیکن ابھی تک سول بیوروکریسی پر لاگو ہونا باقی ہے۔ تاہم اب اس کا اطلاق صوبائی بیوروکریسی میں شامل ہونے والے نئے افسران پر بھی کردیا گیا ہے جس کے بعد خیبرپختونخوا پہلا صوبہ بن گیا جس نے سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کردی۔

نیا پنشن سسٹم کیا ہے؟

خیبرپختونخوا حکومت نے پرانا پنشن سسٹم ختم کرکے نیا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے مطابق جون 2022 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کو ماہانہ پنشن نہیں ملے گی، بلکہ یکمشت ادا کی جائے گی، جس کے لیے باقاعدہ علیحدہ بینک اکاؤنٹ ہوگا۔ ادائیگی کے وقت خزانے پر بوجھ نہ ڈالا جائے۔

صوبائی حکومت نے نئے پنشن سسٹم کو کنٹریبیوٹری پنشن کا نام دیا ہے۔ جس میں ملازمین سے ان کے سکیل کے مطابق ماہانہ ایک مخصوص رقم کاٹی جائے گی اور صوبائی حکومت اپنا حصہ ڈالے گی۔

محکمہ خزانہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ صوبائی حکومت ایک خصوصی پنشن بینک اکاؤنٹ کھول رہی ہے، جس سے پنشنرز کو بعد میں ادائیگی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین کی کثیر تعداد کے باعث پنشن کی ادائیگی سرکاری خزانے پر بوجھ بن رہی ہے جس سے ترقیاتی کام متاثر ہو رہے ہیں۔

شراکت داری کے نظام میں ادائیگی کیسے کی جائے گی؟

محکمہ خزانہ کے ایک متعلقہ اہلکار نے بتایا کہ نئے ملازمین کو پنشن کی ادائیگی سروس کے خاتمے کے وقت یا سروس چھوڑنے کے وقت کی جائے گی، جو ان سے ماہانہ کٹوتیوں کی بنیاد پر کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماہانہ سی پی فنڈ ملازمین سے ان کے بنیادی پے سکیل کی بنیاد پر کاٹ لیا جائے گا اور اتنی ہی رقم حکومت کی طرف سے ملازمین کی پنشن میں جمع کرائی جائے گی جو کہ ملازمین کو یکمشت کے طور پر ادا کی جائے گی۔ مدت

انہوں نے کہا کہ پنشن اکاؤنٹ میں موجود رقم کہیں اور خرچ نہیں ہو گی اور بینک اس پر منافع بھی کمائے گا جس سے ملازمین کو تنخواہ ملے گی اور خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بھی نیا پنشن سسٹم متعارف کروا رہی ہے اور یہ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی فالو کرے گی، جس کے بعد پورے ملک میں یکساں پنشن سسٹم ہو گا۔

“نئے نظام میں یکمشت رقم زیادہ ہوگی”

محکمہ خزانہ کے اہلکار نے بتایا کہ سی پی سسٹم کے تحت ماہانہ پنشن ادا نہیں کی جائے گی لیکن یکمشت ادائیگی کی صورت میں رقم پہلے سے زیادہ ہوگی۔ “نئے نظام کے تحت ملازمین کو بلاسود قرضوں کی سہولت بھی حاصل ہو گی تاکہ وہ پنشن سے قبل گھر بنانے کے علاوہ دیگر کام بھی کر سکیں۔”
مزیدپڑھیں :وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کوایک اور عہدہ مل گیا

یہ بھی پڑھیں