Search
Close this search box.
جمعرات ,16 جولائی ,2026ء

امریکہ نےافغانستان میں پاکستان کی فوجی کارروائی کی حمایت کا اشارہ دیدیا

نیویارک(نیوزڈیسک)امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھوملر نے کہا کہ پینٹاگون افغانستان مسئلے کو پاکستان کا بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتا ہے کیونکہ محکمہ خارجہ اس ملک کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے۔پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے کالعدم پاکستانی عسکریت پسند تنظیم ٹی پی پی کو نشانہ بنانے کیلئے افغانستان میں سرحد پار سے حملے کرنے کے عزم کے چند دن بعد امریکہ کا بھی ردعمل آگیا۔ امریکہ نے پینٹاگون اور محکمہ خارجہ دونوں کو ملے جلے اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اس طرح کے آپریشن کی مخالفت سے گریز کرے گا .

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھانا پڑا، امریکا طالبان کی حمایت نہیں کرتا، انہوں نے واضح کیا کہ وہ طالبان کی مالی معاونت نہیں کررہے۔انہوں نے کہا کہ طالبان کا نام نہاد اخلاقیات کا نفاذ افغان عوام کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور امریکہ افغان عوام کے ساتھ طالبان کے سلوک پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا طالبان کی حمایت نہیں کرتا، اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ طالبان کی مالی معاونت نہیں کر رہے ہیں۔میتھیو ملر نے مزید کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور نام نہاد اخلاقی نگرانی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے اور طالبان کی نام نہاد اخلاقیات پر غیرمتوقع اور من مانی نفاذ افغانوں کے انسانی حقوق کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پر فضائی حملوں سے متعلق فیصلہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ . یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کو کیسے محفوظ رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیکیورٹی مسائل اس کے حل کے لیے ہیں اور اس حوالے سے تمام فیصلے پاکستان کے اپنے ہوں گے۔
افغان شہریوں کی پاکستان میں مانیٹرنگ کیلئے نیا نظام لانے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیں