لاہور(ویب ڈیسک)لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں تشدد کا نشانہ بننے والے پیٹرول پمپ ٹک شاپ کے سیلز مین یوسف نے لڑکیوں سے لڑائی کی ساری کہانی سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں واقع ٹک شاپ پر تین لڑکیاں آئیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بااثر خاندان کی ہیں۔ اس دوران دکان میں کھڑے گاہکوں میں سے کسی نے بھی لڑکے کو بچانے کی کوشش نہیں کی لیکن جب ایک بزرگ آگے بڑھا تو لڑکیوں نے اس پر شور مچانا شروع کر دیا۔
یوسف نے ایک نجی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ڈیوٹی پر کھڑے تھے اور میں اپنے ساتھی سے بات کر رہا تھا کہ ہمارے پاس ایک چیز ختم ہو گئی ہے اور اس نے کہا کہ اب یہ منیجر کی بے عزتی ہو گی۔ نئی بات کیا ہے اور ہم دونوں حسب معمول ہنس پڑے جس پر ان لڑکیوں نے سوچا کہ ہم ان کی کسی بات پر ہنس پڑے۔
یوسف نے کہا کہ اس نے کہا کہ تم بہت ہنس رہے ہو، میں تمہیں بتاؤں گی کہ تم کیسے ہنستے ہو اور وہ کیش کاؤنٹر کے اندر آگئی، جس پر میں نے اسے کہا کہ باہر جاؤ، تمہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے، جس پر ایک اور لڑکی آگئی۔ میری گردن پکڑ کر تھپڑ مارا، ایک گاہک تھا جو ویڈیو بنا رہا تھا، اس نے مجھے مارنے سے منع کیا، لڑکیوں نے اسے ماں بہن کی گالیاں دینا شروع کر دیں۔
متاثرہ لڑکے کا مزید کہنا تھا کہ زیادتی کی ایک اور ویڈیو ہے، پھر انہوں نے اسے 3 سے 4 منٹ تک مارا اور پھر 15 کو کال کرکے ہراساں کرنے کا مقدمہ درج کرایا اور ہم ساری رات جیل میں رہے۔
لڑکے نے بتایا کہ وہ لڑکیاں چائے پینے آئیں اور میں نے انہیں بھی چائے پلائی، وہ کیش دینے کاؤنٹر پر آئیں، جب یہ سب ہوا تو انہوں نے بل بھی جمع نہیں کروایا، چیزیں پیک کرکے چلی گئیں۔
مزیدپڑھیں :مودی بھی ’امبانی‘ خاندان کی شادی میں شرکت کریں گے؟

