Search
Close this search box.
اتوار ,28 جون ,2026ء

’’بجلی کی لاگت 9روپے یونٹ ہے تو بل 80روپے یونٹ کے حساب سے کیوں آرہا ہے‘‘

اسلام آباد(ویب ڈیسک )سابق وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ جولائی میں بجلی کی لاگت 9 روپے فی یونٹ رہی تو بل کیسے 40، 60 یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں۔

سابق نگراں وزیر تجارت گوہر اعجاز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا ’جولائی کے لیے ایندھن کی قیمت 9.03 روپے فی یونٹ رہی جب کہ جولائی میں کل اوسط پیداوار 20 ہزار میگاواٹ تھی، جس میں سے 35 فیصد (یا 7 ہزار میگاواٹ) ہائیڈل ذرائع سے آئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس 43 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن بنیادی مسئلہ بجلی کے شعبے کی مجموعی بدانتظامی کے ساتھ ساتھ پیدا نہ ہونے والی توانائی کے لیے کیپیسٹی چارجز کی ادائیگی ہے، جس سے رہائشی، تجارتی، صنعتی، اور زرعی صارفین متاثر ہورہے ہیں۔

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ صارفین آئی پی پیز معاہدوں کے تحت کیپیسٹی چارجز کے لیے نہیں بلکہ صرف ان توانائی کے لیے ادائیگیوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں جو حقیقت میں پیدا ہوتی ہے جب کہ ایندھن کی قیمت صرف 9.03 روپے فی یونٹ ہے، سوال یہ ہے کہ بل کیسے 40، 60، یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب اور اسلام آباد کے 500 یونٹس کے صارفین کو 2 ماہ کے لیے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینے کا فیصلہ قابل تحسین ہے لیکن وفاقی حکومت کو تمام صارفین، رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی کو ریلیف دینا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آئی پی پیز کو دگنی قیمت پر لگایا گیا۔

اس حوالے وہ سپریم کورٹ بھی جانے کا اعلان کرچکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جانے کے لیے درخواست تیار کرلی ہے، آئی پیز کے ساتھ معاہدے ہوئے ہیں، ان کا فرانزک آڈٹ ہونا چاہیے، آئی پی پیز معاہدوں کو کھولا جائے۔
مزیدپڑھیں :شمالی کوریا جانے والے غیرملکیوں کیلئے اہم خبرآگئی

یہ بھی پڑھیں