Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

وزارت خزانہ قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں کے تعین کا اختیار کھو بیٹھی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے وزارت خزانہ اور حکومت کو قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کے تعین کے اختیارات سے محروم کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب قومی اسمبلی خود اپنے الاؤنسز اور تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کرے گی۔

ایک مشابہہ تجویز سینیٹ میں بھی پیش کی گئی ہے جس کے تحت سینیٹرز کو اپنی تنخواہوں اور الاؤنسز کے تعین کا اختیار دیا جائے گا۔ اس سے پہلے قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں کوئی بھی تبدیلی وزارت خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد کی جاتی تھی۔ تاہم اب قومی اسمبلی میں ترمیم کی منظوری کے بعد یہ شرط ختم کر دی گئی ہے۔

سینیٹ کی کمیٹی کا اجلاس، جس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی، پارلیمنٹرینز کے الاؤنسز میں ترمیمات پر غور کرنے کے لیے منعقد ہوا۔ سیکریٹری خزانہ امداد بوسال نے ان ترامیم کا جائزہ لینے کے لیے تین دن کی مہلت طلب کی۔

سینیٹر مانڈوی والا نے ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اب قومی اسمبلی کے اراکین کے الاؤنسز میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ قومی اسمبلی خود ہی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ایک بل پاس ہو چکا ہے جس کے تحت اراکین پارلیمنٹ کو اپنی تنخواہوں کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہو چکا ہے۔ یہ ترمیم پارلیمنٹرینز کو اپنے معاوضے کا تعین کرنے کا مکمل اختیار فراہم کرتی ہے۔
مزیدپڑھیں :صدر مملکت سے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن ، ناصر حسین شاہ کی ملاقات،موجودہ قومی و صوبائی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال

یہ بھی پڑھیں