Search
Close this search box.
منگل ,30 جون ,2026ء

جے شنکر کی پاکستان آمد: شاید اب پاک بھارت تعلقات میں کچھ نرمی آجائے، بھارتی صحافی سہاسنی حیدر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)معروف بھارتی صحافی سہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر کا پاکستان آنا کافی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اس کانفرنس کو آن لائن جوائن کرسکتے تھے لیکن وہ خود آ رہے ہیں۔ ان کا آنا ہی ایک مثبت قدم ہے۔

دی ہندو اخبار کی نمائندہ سہاسنی حیدر کا نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں کہنا تھا کہ ایس سی او ایک بہت اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ 20 برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ چند برس قبل ہی انڈیا اور پاکستان اس کے ممبر بنے۔ اب ایران اور بیلا روس بھی شامل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہاں مغرب مخالف بیانیے پر بھی بات ہوتی ہے اگرچہ یہ اس کے مقصد میں شامل نہیں ہے لیکن ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے ممالک کے مابین تنازعات چل رہے ہیں۔ روس اور یوکرائن کا، غزہ اور اسرائیل کا۔ اس طرح کی صورتحال میں ایسی علاقائی تنظیموں کی اہمیت ہوتی ہے۔ ایس سی او نے دہشتگردی، انتہاپسندی اور بنیاد پسندی پر بھی کافی کام کیا ہے۔

سہاسنی حیدر کا کہنا ہے کہ انڈیا پاکستان کے جو دو طرفہ تنازعات ہیں وہ اس طرح کی میٹنگز میں تو حل نہیں ہوسکتے۔ جیسا کہ ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کواپریشن (سارک) کی میٹنگز میں تو سب ممالک کے ہیڈز کا ہونا لازمی ہے۔ ایس سی او اجلاس میں تو کوئی نہ بھی ہو تو مسئلہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر آ رہے ہیں۔ وہ اب تک کسی بھی اجلاس کے لیے پاکستان نہیں آئے تھے۔ ایسے میں ان کا یہاں آنا کافی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان میں وزراء کی جو بھی میٹنگز ہوئیں، دوسرے ممالک کے وزراء نہیں آتے تھے۔ وہ آن لائن ہی جوائن کرتے تھے۔ اس بار بھی جے شنکر آن لائن جوائن کر سکتے تھے لیکن وہ خود آ رہے ہیں۔ ان کا آنا ہی ایک مثبت قدم ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ دو طرفہ مذاکرات کے بحال ہونے کا انحصار دونوں فریقین پر ہے لیکن اتنا ضرور ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کی لیڈر شپ کے ساتھ بات چیت ہوگی، پھر ایک ڈنر بھی ہے۔ وہاں بات چیت ہو سکتی ہے۔ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ دوسرے ممالک کے ساتھ کیا بات چیت ہوتی ہے۔ جو آگے چل کر فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

سہاسنی حیدر کہتی ہیں کہ بھارتی عوام کی پاکستان کے بارے میں رائے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 سے 15 برس میں بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنا رخ بدلا ہے اور کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ خاص طور پر 2019 سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رہا۔ سب کچھ بند ہوگیا۔ تجارت، ائیر لائن، بس لائن، ویزہ، ہائی کمشنرز، ان سب چیزوں کو مدنظر رکھا جائے تو اس پر ان کے درمیان باقاعدہ بات چیت نہیں ہو رہی، اگرچہ بیک اینڈ پر چلتی رہتی ہے۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو ان کا بھی آنا جانا نہیں ہورہا۔ شاید اب وہ بحال ہو سکے۔ جب تک انڈیا پاکستان کے دو طرفہ تعلقات بحال نہیں ہوتے اس وقت تک شاید معاملات پیچیدہ ہی رہیں گے۔ اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو اس سے کم از کم جو 5 سال قبل چیزیں بند ہوئی تھیں وہ تو دوبارہ سے شروع ہو جائیں گی۔
مزیدپڑھیں:آئینی ترمیم مسترد، ملک بھر کی وکلا تنظیموں کا جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

یہ بھی پڑھیں