اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان بھر میں انٹرنیٹ صارفین نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی این) کی بندش کی شکایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کو ان کی ’وی پی این‘ کے ذریعے چلنے والی سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس تک رسائی ناممکن ہو گئی ہے۔
ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر ایسے انٹرنیٹ مواد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو ان کے ملک میں انٹرنیٹ صارفین کے لیے ناقابل رسائی یا مسدود کیے گئے ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ حکومت نے فائر وال کے ذریعے پاکستان میں سوشل میڈیا سمیت دیگر متعدد ویب سائٹ تک صارفین کی رسائی کو بلاک کر دیا تھا، ان بلاک شدہ ویب سائٹس میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ سر فہرست تھی جسے ’وی پی این‘ کے ذریعے ہی صارفین استعمال کرتے تھے۔
حتیٰ کہ وزیر اعظم پاکستان سمیت دیگر حکومتی اراکین، وزرا اور اعلیٰ حکام ’وی پی این‘ کے ذریعے ہی ’ایکس‘ تک رسائی حاصل کرتے ہیں، اس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے ’ایکس ڈاٹ کام‘ کے ذریعے ہی نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی، جس پر انہیں اندرون ملک اور بیرون ملک ’ایکس‘ پر حکومتی پابندی کے باعث تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) وی پی این کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر رہی تھی، جس کا مقصد پہلے سے ہی ممنوعہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس تک رسائی کو روکنا تھا۔
ایک ماہ بعد وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ ’ایکس‘ پر پابندی قومی سلامتی کے مسائل کی وجہ سے لگائی گئی ہے نہ کہ آزادی اظہار پر قدغن لگانے کے لیے لگائی گئی ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’علیحدگی پسند اور دہشتگرد‘ پاکستان کے خلاف ’ایکس‘ پلیٹ فارم کا استعمال کر رہے ہیں، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
رواں ماہ پی ٹی اے نے ان افواہوں کی تردید کی تھی اور واضح کیا تھا کہ ملک میں وی پی این بلاک نہیں کیے جا رہے ہیں۔ ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر نے ایک بیان میں کہا کہ ’پی ٹی اے ‘کی جانب سے ’وی پی این‘ بلاک کرنے کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی حالیہ خبریں واضح کرتی ہیں کہ پاکستان میں ’وی پی این‘ بلاک نہیں کیے جا رہے۔
پی ٹی اے تمام آئی ٹی کمپنیوں، سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز اور بینکوں وغیرہ کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ وی پی این استعمال کرنے کے لیے اپنے آئی پیز رجسٹرڈ کروائیں تاکہ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں ان اداروں کی انٹرنیٹ سروسز متاثر نہ ہوں۔
ادھر اتوار کو ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورکس کی بندش کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) کی تا حال کوئی وضاحت سامنے نہیں آ سکی جبکہ پاکستان میں ’ایکس ڈاٹ کام‘ کے متعدد صارفین کی جانب سے اتوار کو بدستور شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ کوئی بھی ’وی پی این‘ کام نہیں کر رہا ہے یا پھر یہ انتہائی سست روی کا شکار ہے، اس تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے۔
صارفین نے وی پی این سروسز جن میں ’وی پی این ان لمیٹڈ‘، ’ٹنل بیئر‘، ’کلاؤڈ فیئروارپ‘، ’ویب براؤزِک‘ و دیگر متعدد شامل ہیں، کی بندش کی شکایات کی ہیں، اس کے ساتھ انٹرنیٹ بھی انتہائی سست روی کا شکار رہا جس کے بارے میں تقریباً تمام مسائل ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک سے منسلک ہونے سے متعلق تھے۔
ملک بھر سے رات گئے تک اطلاعات جاری رہیں کہ لامحدود صارفین اب بھی وی پی این کی بندش جیسے مسائل کی اطلاع دے رہے ہیں، کچھ ایکس صارفین نے وی پی این خدمات کی فہرست شائع کی جو اب بھی پاکستان میں فعال ہیں۔
مزیدپڑھیں:پربھاس نے اپنے فلمی کیرئیرکا سب سے بڑا معاہدہ کرلیا

