کراچی(نیوز ڈیسک)کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، اور اب اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن نے بھی اہم انکشافات کردیے ہیں۔
ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی کسٹڈی میں موجود ملزم نے بتایا کہ مصطفیٰ عامر کے ساتھ میری دوستی تھی، ارمغان سے 2016 میں ملاقات ہوئی جب وہ منشیات فروخت کرتا تھا۔
ملزم نے بتایا کہ مصطفیٰ عامر 4 جنوری کو آخری بار منشیات لینے میرے گھر آیا، اور اس روز وہ ادھار منشیات لے کر گیا لیکن پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ملزم کے مطابق مصطفیٰ عامر کے لاپتا ہونے کے بعد ارمغان اور شیراز 15 جنوری کو میرے گھر آئے، ارمغان نے مجھ سے ایک لاکھ 33 ہزار روپے کی منشیات خریدی۔
ملزم ساحر حسن نے بتایا کہ میرے پاس موجود منشیات امریکی ریاست کیلی فورنیا سے پاکستان لائی جاتی ہے، 2 نجی کوریئر کمپنیوں کے ذریعے منشیات گھر کے دروازے پر ملتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجھ تک کراچی میں منشیات پہنچانے والا مرکزی سپلائر اسلام آباد میں ہے۔
واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان کو دوستوں نے بلوچستان کے علاقے حب لے کر جا کر گاڑی میں زندہ جلا دیا تھا۔ اور اب اس کیس کی تحقیقات کے دوران آئے روز نئے نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:چیمپیئنز ٹرافی میچز کے دوران اسلام آباد کی کون سی اہم سڑکیں بند رہیں گی؟


