چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، نے مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، پرنسیپلز اور سینئر اساتذہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کو پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج جو کچھ بھی ہیں، اپنے والدین اور اساتذہ کرام کی بدولت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اگلی نسلوں کی کردار سازی اساتذہ کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی کہانی اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچائیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ “معرکہ حق” اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم ایک آہنی دیوار کی مانند متحد ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس پر کوئی بھی سودا ممکن نہیں۔ پاکستان کبھی بھی کشمیر کو نہیں بھولے گا اور نہ ہی ہندوستان کی اجارہ داری کو تسلیم کرے گا۔ پانی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور 24 کروڑ پاکستانیوں کے اس بنیادی حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے کئی دہائیوں سے کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی، لیکن اب یہ ممکن نہیں رہا۔ دہشت گردی بھارت کا اندرونی مسئلہ ہے جس کی جڑ اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پر ظلم اور تعصب میں ہے، جبکہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔
بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں کے دہشت گرد فتنہ الہندوستان ہیں اور ان کا بلوچ عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک ایسی مضبوط ریاست بنانا ہے جہاں تمام ادارے آئین و قانون کے مطابق، بغیر کسی سیاسی دباؤ، ذاتی مفاد یا مالی فائدے کے، صرف عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں۔
انہوں نے ریاست کے خلاف بیانیہ بنانے والوں کی سختی سے نفی کرنے پر زور دیا اور کہا کہ یہ محفوظ دھرتی ہماری افواج کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ شرکاء نے سوال و جواب کے سیشن میں واضح کیا کہ انہیں پاکستان اور اپنی مسلح افواج پر فخر ہے اور وہ ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔



