اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خوبصورت آواز اور بہترین صدا کار یاسمین طاہر انتقال کر گئیں۔
سید امتیاز علی تاج اور حجاب امتیاز کی بیٹی، نعیم طاہر کی اہلیہ اور فاران، مہران اور علی طاہر کی والدہ، اداکارہ، ریڈیو آرٹسٹ، میزبان اور مصنف یاسمین طاہر نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ ریڈیو پاکستان کے لیے کام کیا۔ آج وہ قلیل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔
یاسمین طاہر نے اپنی شاندار خاندانی وراثت کو پرسکون وقار کے ساتھ آگے بڑھایا۔

جنریشن ایکس سے پہلے والی جنریشن کے لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن رہنے والی ریڈیو پاکستان کی صداکار یاسمین طاہر نے88سال عمرپائی
یاسمین طاہر کچھ دنوں سے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں
یاسمین طاہر ٹیپیکل لہورن تھیں۔ وہ 1937 میں لاہور میں پیدا ہوئیں، لاہور مین ہی تعلیم پائی اور لاہور مین ہی زندگی گزار دی، وہ لاہور میں ہی جہانِ فانی کو الوداع کہہ گئیں اور لاہور کی خاک میں ہی دفن ہو رہی ہیں۔
ممتاز ترین ادیب ماں باپ کی بیٹی یاسمین ن آرٹ کی کئی فارمز میں کام کرتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے روزگار کے لئے ادب کی شاخ ریڈیو صداکاری کا انتخاب کیا۔
صداکارہ یاسمین طاہرنے1958میں ریڈیوپاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔
یاسمین نے جس گھر میں آنکھ کھولی وہ پاکستان کے سب سے بڑے ڈرامہ نگار ّ، درحقیقت اردو زبان میں ڈرامہ کے بانی_ امتیاز علی تاج کا گھر تھا، امتیاز علی تاج کا مشہور ڈرامہ’’انارکلی‘‘ آج بھی کلاسیکی ادب میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ان کے گھر میں صبح شام صرف ادب ہی گفتگو کا موضوع رہتا تھا، شہر کے ممتاز ترین ادیب اور ادب شناس امتیاز علی تاج کے ہم نشیں تھے اور ان سب کی باتیں سننا یاسمین کی زندگی کا ایک تلازمہ تھا۔ ادب ان کی گھٹی میں تھا۔
حجاب امتیاز علی، یاسمین کی والدہ الگ سے ایک لیجنڈری پرسنلیٹی تھیں۔ حجاب حیدرآباد دکن کی ریاست کے حکمران خاندان سے تھیں اور ان وقتوں مین تعلیم یافتہ تھیں جب عورت کا تعلیم حاصل کرنا عجوبہ مانا جاتا تھا۔
حجاب امتیاز علی مصنف، ایڈیٹر اور ڈائریسٹ تھیں۔ اس کے ساتھ وہ جدیدیت کی تحریک کی لیڈر بھی تھیں، خواتین سب کچھ کر سکتی ہیں، اور سب کچھ کرنا خواتین کا حق ہے، اس خیال کو لے کر حجاب جہاز آڑانے والی پائلٹ تک بن گئیں۔ 1936 میں اپنا سرکاری پائلٹ لائسنس حاصل کرنے والی حجاب کو دنیا کی دوسری خاتون مسلمان پائلٹ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ سوویت آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی زلیخا سیدمامدووا نے دو سال پہلے 1934 میں بطور پائلٹ کوالیفائی کیا تھا۔
حجاب اردو ادب میں ایک معروف نام رہیں اور اردو میں رومانیت کی علمبردار کی حیثیت سے جانی گئیں۔
حجاب اور امتیاز علی تاج کی صاحبزادی یاسمین علم و ادب اور جدیدیت کا دو آتشہ تھیں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں تھی۔
1960 میں یاسمین طاہر نے فلم، ٹیلی ویژن ،سٹیج اور تھیٹر کے اداکار و کالم نگار اور لیجنڈ نعیم طاہر سے شادی کی۔
ان کے تین بیٹے ہوئے جن میں ہالی ووڈ کے اداکارفاران طاہر، مہران اور علی طاہر شامل ہیں،
یاسمین کی شادی پر لیجنڈری گلوکارہ نور جہاں نے لیجنڈری شاعر فیض احمد فیض کا تحریر کردہ سہرا گایا تھا۔ یہ منفرد اعزاز پاکستان مین کسی دوسری خاتون کو حاصل نہیں ہو سکا۔
یاسمین طاہر نے ریڈیو پاکستان سے اپنے پروفیشنل کیریئر کا آغاز1958 میں کیا،
37 سال تک وہ ریڈیو پاکستان کی ہردلعزیز آواز بنی رہیں،
“صبح بخیر پاکستان” جیسے مقبول پروگرام سے لے کر 1965 کی جنگ میں محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کے ساتھ گفتگوئیں کر کے انہیں ریڈیو پاکستان سے نشر کرنے تک ان کے اندازِ بیاں نے ریڈیو کی دنیا کو نئی جہتیں دیں۔
مزیدپڑھیں:پلاٹ ملا نہ گھر، عمر بھر کی جمع پونجی کی واپسی شروع، ہزاروں افراد تاحال منتظر