اسلام آباد ( اے بی این نیوز )عمران خان کی بہن نورین نیازی نے کہا ہے کہ خواتین، بچے اور بزرگ بھی اب محفوظ نہیں رہے کیونکہ بغیر وارنٹ گھروں میں داخل ہونا اور نوجوانوں کو اٹھا لے جانا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔یہ سب کچھ کسی جمہوری ملک میں نہیں ہوتا، ایسے اقدامات صرف اسرائیل جیسے ریاستی مظالم کی مثالوں میں دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، بے گناہ نوجوانوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے اور کئی والدین کو یہ تک نہیں پتہ کہ ان کے بچے کہاں ہیں۔ کارکنان پر جھوٹے مقدمات بنا کر ان پر بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حسان نیازی سمیت درجنوں نوجوان بغیر کسی واضح جرم کے قید ہیں اور دس دس سال کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی گرفتاری کو بھی غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیا اور کہا کہ سابق وزیراعظم کو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے کسی مجرم کے ساتھ ہوتا ہے۔وہ اے بی این نیوز کے پروگرام ڈبیٹ ایٹ میں گفتگو کر رہی تھیں انہوں نے کہا کہ
عمران خان نے ہمیشہ عوام کو آزادی کی جنگ لڑنے کی تلقین کی ہے اور آج وہ خود اسی جدوجہد کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے خلاف قائم مقدمات سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں۔ ان کے مطابق، اگر عدالتی نظام اپنا کردار ادا نہیں کرتا تو عوام کے پاس اللہ کی عدالت کے سوا کوئی امید باقی نہیں بچتی۔
انہوں نے موجودہ حکمرانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام دعائیں عمران خان کے لیے کر رہے ہیں جبکہ اقتدار میں بیٹھے افراد کے لیے شاید کوئی بھی دعا کرنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ اب تو 12 سالہ بچوں اور خواتین تک کو تھانوں میں لے جایا جا رہا ہے، جو پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
عمران خان کبھی کسی ڈیل کا حصہ نہیں بنیں گے کیونکہ وہ بے قصور ہیں، ڈیل تو وہ کرتے ہیں جن پر جرم ثابت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور چاہے کتنی ہی گرفتاریاں ہوں، عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
ان حالات نے عوام کے دلوں میں بے چینی اور خوف پیدا کر دیا ہے کہ اگر آج گھروں کی حرمت پامال ہو رہی ہے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل کس طرف جا رہا ہے۔ یہ تحریک کسی وزارت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی آزادی اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔یہ تمام صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سیاسی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عمران خان کی رہائی اور کارکنان کے مستقبل کے بارے میں سوالات عوامی سطح پر مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

