Search
Close this search box.
پیر ,27 جولائی ,2026ء

پاکستان کو وقتی ریلیف نہیں، طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،ڈاکٹرزینب نعیم،حمیداللہ ملک

لاہور (اے بی این)پاکستان میں جاری حالیہ سیلابی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب حمیداللہ ملک اور ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے اے بی این کے پروگرام سوال سے آگے میں انکشاف کیا کہ ملک کو درپیش مسائل کی بنیادی وجوہات ماحولیاتی تبدیلی، غیر سنجیدہ پالیسی سازی اور بروقت تیاری نہ کرنا ہیں۔

ڈاکٹر زینب نعیم کی گفتگو

ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا کہ ہر سال سیلاب کی تباہ کاریاں دہرانا ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کو مؤثر حکمتِ عملی اور جدید انفراسٹرکچر کی تیاری پر زور دینا چاہیے تھا، مگر آج بھی “پریپیرڈنس” زیرو ہے۔

انہوں نے کہا کہ دریا کے کنارے ہاؤسنگ سوسائٹیز بننا مستقبل میں بڑے خطرات کو جنم دے رہا ہے۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ “نو بلڈ زونز” اور “نو کنسٹرکشن ایریاز” کا سختی سے نفاذ کریں۔ جب تک بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات نہیں ہوں گے، پالیسی سازی صرف کاغذی رہ جائے گی۔

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے کی وضاحت

ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے حمیداللہ ملک نے کہا کہ اس وقت دریائے راوی اور ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے اور اگلے 48 سے 72 گھنٹے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے سے پاکستان میں دریاؤں کے بہاؤ میں تیزی آئی ہے، جو براہِ راست خطرات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت مسلسل وارننگز جاری کر رہی ہے، مساجد کے ذریعے اعلانات کرائے گئے ہیں اور ہر شہری تک میسج پہنچایا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشنز جاری ہیں جبکہ شیلٹر ہومز اور ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو فوری سہولت دی جا سکے۔

عوامی تعاون کی کمی

حمیداللہ ملک نے افسوس کا اظہار کیا کہ کئی علاقوں کے رہائشی بار بار وارننگز کے باوجود اپنے گھروں کو خالی نہیں کر رہے، جس سے ریسکیو آپریشنز مشکل ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اقدامات کر رہی ہے لیکن “اگر لوگ تعاون نہ کریں تو بڑے نقصانات کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔”

مستقبل کا خطرہ

دونوں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اب صرف وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ اگر دریاؤں کے کنارے تعمیرات نہ روکی گئیں اور جدید ماحولیاتی پالیسی پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو مستقبل میں سیلاب مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار، عالمی مدد کی ضرورت ہے: نوشین افتخار

یہ بھی پڑھیں