Search
Close this search box.
بدھ ,15 جولائی ,2026ء

حکومت فوٹو سیشن تک محدود، عوام کو حقیقی ریلیف نہیں مل رہا،شاہدخاقان عباسی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اے بی این کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال اور ملک کے مجموعی طرز حکمرانی پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال اب تک 20 سے زائد جانیں لے چکی ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق بیڈ گورننس، غلط منصوبہ بندی اور دریاؤں کے قریب غیر قانونی تعمیرات نے نقصانات میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ عباسی کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں تباہی کہیں زیادہ ہے جہاں لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں برباد ہوگئیں اور کسان بے روزگار ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی آفت ایسے وقت میں آئی ہے جب ملک پہلے ہی مہنگائی اور غربت کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں گندم کی قیمت میں کمی ہوئی ہے جبکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 74 ارب روپے سے زائد مالیت کی گندم فنگس اور چوہوں کی وجہ سے ضائع ہوئی۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عباسی نے کہا کہ پاکستان کو ہر دو ماہ بعد کسی نہ کسی قدرتی آفت کا سامنا رہتا ہے۔ ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں سیلاب کے بعد سخت سردی، پھر ہیٹ ویو اور جنگلات میں آگ کے خطرات موجود ہیں۔

پروگرام میں متاثرہ افراد کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں انہوں نے شکایت کی کہ پنجاب حکومت کی جانب سے امدادی سرگرمیاں محدود ہیں اور ریلیف پیکج صرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تصاویر کے ساتھ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ گجرات کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی کہا گیا کہ امدادی سامان صرف حکومت پنجاب کی اجازت سے ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے، جس پر متاثرین نے شدید احتجاج کیا۔

اسی دوران عباسی نے بین الاقوامی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا میں پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف عوامی احتجاج اتنا شدید تھا کہ ایک شخص جاں بحق ہوا اور بالآخر صدر کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 70 سالوں میں 30 بڑے سیلاب آئے لیکن عوام نے جمہوریت کو کبھی خطرے میں نہیں ڈالا۔

شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں خواجہ آصف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوان بیوروکریسی اور طاقتور ٹھیکیدار ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تجاوزات اور غلط اسکیموں کے نتیجے میں فطرت ہمیشہ ردعمل دیتی ہے، جیسا کہ موجودہ سیلابی صورتحال سے ظاہر ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومتیں صرف آپٹکس پر چل رہی ہیں اور وزیراعلیٰ صاحبان فوٹو سیشن تک محدود ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی حقیقی تیاری موجود نہیں۔

انتخابات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کے 82 فیصد عوام موجودہ انتخابی نظام کو غیر منصفانہ اور غیر شفاف سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بائیکاٹ یا پارلیمنٹ چھوڑنے کے فیصلے پر اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ہوں۔ عباسی نے کہا کہ اگرچہ وہ اچکزئی کی ہر بات سے متفق نہیں لیکن ان کا قانون پسندی پر مبنی مؤقف ہمیشہ مستقل رہا ہے، اور ایسے ہی رہنماؤں کو اپوزیشن کی قیادت سنبھالنی چاہیے۔

آخر میں عباسی نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لیے احتجاج اور مضبوط اپوزیشن واحد راستہ ہے کیونکہ موجودہ حکمران صرف وعدے اور تسلیاں دینے تک محدود ہیں۔

مزیدپڑھیں:کے پی اسمبلی: افغان زلزلے کے زخمیوں کو پاکستان میں داخلے اور مفت علاج کی قرارداد منظور

یہ بھی پڑھیں