اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینئرصحافی وتجزیہ کار رضوان رضی نے کہا کہ بھارت کے حالیہ دورے کے دوران ایک اسرائیلی وزیر کے مبینہ بیان نے خطے میں سفارتی ہلچل پیدا کر دی ہے، جس میں انہوں نے بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی ترغیب دی۔ اس بیان نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان تاریخی طور پر سفارتی تعلقات قائم نہیں رہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رضوان رضی نےانکشاف کیاکہ اسرائیلی وزیر نے اپنے دورے کے دوران کہا کہ اگر بھارت کو ہتھیار، میزائل یا بم کسی اور جگہ سے دستیاب نہ ہوں تو اسرائیل بھارت کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تعاون کو ظاہر کرتا ہے جو 1990 کی دہائی کے اوائل سے مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ اسرائیل اس وقت بھارت کے سب سے بڑے اسلحہ فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور جدید فوجی ٹیکنالوجی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ فلسطین کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے 1947 میں اقوام متحدہ کی فلسطین کی تقسیم کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا اور اس کا مؤقف ہے کہ جب تک ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوتی، وہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔
اسرائیلی وزیر کے اس بیان نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور بھارت-اسرائیل گٹھ جوڑ کو پاکستان کے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ خطے میں پراکسی تنازعات کے امکانات مزید تقویت پکڑ سکتے ہیں، جو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔
عرب ممالک بہانہ ہے پاکستان نشانہ ہے اسرائیل پاکستان پرحملہ ضرورکریگا
بھارت کے دورے پرآئے اسرائیلی منسٹر نے بھارت کو🇵🇰 پر حملے کیلئے پھر سے ابھارا ہے
اور دنیا کہ جس بھی کونے سے آپکو ہتھیار،میزائل یا بم چائیےاگر دنیا آپکو براہ راست نہیں دیتی تواسرائیل آپکو خرید کر دیگارضی صاحب! pic.twitter.com/gTH7n1x8My
— Zaryab Rajput (@BXaryab) September 12, 2025
مزیدپڑھیں:دوحہ پر اسرائیلی حملہ: سلامتی کونسل میں پاکستان اور اسرائیل میں تلخ جملوں کا تبادلہ


