اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کر رہا ہے، جس کی بنیادی وجوہات میں قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی میں تسلسل اور ہم آہنگی کا فقدان، اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں موجود خلا شامل ہیں۔
منصور احمد خان نےاے بی این کے پروگرام “ڈی بیٹ ایٹ 8” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2007 میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے وجود میں آنے کے بعد سے اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں مسلسل شدت آتی جا رہی ہے، اور گزشتہ 18 برسوں میں پاکستان کو ان کارروائیوں کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جن میں درجنوں فوجی جوان اور سیکورٹی اداروں کے افسران شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں 12 جوانوں کی شہادت نے اس مسئلے کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ پالیسی میں سنگین خامیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی خیبرپختونخوا سمیت متعدد علاقوں میں مضبوط سپورٹ نیٹ ورک رکھتی ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان علاقوں میں حکومت اور عوام کے درمیان تعلق کمزور ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک ایسی جامع اور مستقل قومی انسدادِ دہشت گردی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے، جس پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سیاسی جماعتیں، اور تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہوں۔
سابق سفیر نے کہا کہ پالیسی میں موجود سب سے بڑا خلا تسلسل کا فقدان ہے:
“کبھی ہم جنگ کی بات کرتے ہیں، کبھی مذاکرات کی۔ ایک آپریشن کے بعد دوسرا آپریشن کرتے ہیں، پھر اگلے پر چلے جاتے ہیں، لیکن کوئی واضح اور طویل المدتی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کا حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت حکمت عملی میں ہے، جس میں جہاں ضرورت ہو وہاں طاقت کا استعمال کیا جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں بات چیت کی جائے، تاکہ شدت پسندی کی جڑوں کو ختم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی، فوجی آپریشنز کے بعد متاثرہ علاقوں میں معاشی انضمام، بنیادی سہولیات، اور سیاسی مراعات دے کر عوام کو پرامن اور ترقی یافتہ زندگی کی طرف لایا جائے۔
منصور احمد خان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں موجود خلاء کو بھی دہشت گردی کے مسئلے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق:
“2001 سے 2025 تک افغانستان میں آنے والی کسی بھی حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں ہمیشہ بداعتمادی اور تناؤ رہا ہے۔ ہم اب تک یہ خلا پُر نہیں کر سکے۔”
انہوں نے کہا کہ چین، ایران، امریکہ اور وسطی ایشیائی ممالک کو بھی افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں پر تحفظات ہیں، لیکن ان ممالک میں اس سطح کی دہشت گردی نہیں ہو رہی، کیونکہ انہوں نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ پاکستان بھی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کو ازسرِ نو بہتر بنائے، تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کا باہمی عزم کر سکیں۔
مہاجرین کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے منصور احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو افغان مہاجرین کے لیے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی معقول پالیسی اپنانا ہوگی:
“بہت سے مہاجرین دہائیوں سے پاکستان میں ہیں، کئی یہیں پیدا ہوئے۔ ہمیں کیٹیگریز بنا کر افغان حکومت کے تعاون سے بتدریج ان کی واپسی کا منصوبہ بنانا چاہیے، نہ کہ سب کو ایک ساتھ واپس بھیجا جائے۔”
انہوں نے تجویز دی کہ ہر سال ایک طے شدہ تعداد میں مہاجرین کو افغان حکومت کی رضامندی سے واپس بھیجا جائے اور ساتھ ہی طورخم اور چمن بارڈر پر لوگوں کی آمد و رفت کے نظام کو آسان اور منظم بنایا جائے، تاکہ افغانستان کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان تعلقات کو معمول پر لانے کا خواہاں ہے۔
آخر میں منصور احمد خان نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کا جغرافیہ ایک حقیقت ہے، جسے بدلا نہیں جا سکتا، اس لیے دونوں ممالک کو قریبی ثقافتی، معاشی اور سکیورٹی شراکت داروں کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ:
“اعتماد کی فضا بحال کرنے کی ذمہ داری دونوں طرف ہے۔ افغانستان کے پاس اب ایک سنہری موقع ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد خطے کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ پاکستان ان کا قدرتی شراکت دار ہے، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔”
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں، حکومتیں اور ریاستی ادارے ایک پیج پر ہوں اور ایک جامع پالیسی کے تحت مشترکہ اقدامات کریں۔
مزیدپڑھیں:عالمی برادری دہرا معیار ترک کرکے اسرائیل کو اس کے جرائم پر سزا دے، قطری وزیراعظم

