اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا استعفا گورنر ہاؤس کو موصول ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے تین روز قبل استعفا دیا تھا۔ علی امین گنڈاپور نے ہاتھ سے استعفا لکھ کر گورنر کو ارسال کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر غور کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کی رات گئے تک اسپیکر ہاؤس میں اہم بیٹھک ہوئی۔ جس میں وزیراعلیٰ کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والے آئینی و سیاسی بحران پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
Today at 2:30 pm, the handwritten resignation advice of the CM Khyber Pakhtunkhwa was duly received and acknowledged by Governor House.
After thorough scrutiny and legal formalities as per the Constitution & relevant laws, subject resignation will be processed in due course of… pic.twitter.com/wD9phdWUIQ— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) October 11, 2025
ذرائع کے مطابق اجلاس میں تجویز زیر غور آئی کہ فوری طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے اور اگر گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ کا استعفیٰ منظور نہ کیا گیا تو تحریکِ عدم اعتماد پیش کی جائے۔
ذرائع کے مطابق آج سہ پہر تین بجے کے قریب خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کا امکان ہے، تاہم تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق چھٹی کے باوجود تمام عملہ اسمبلی میں موجود ہے اور ممکنہ اجلاس کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
48 گھنٹے سے زائد گزر جانے کے باوجود وزیراعلیٰ کے استعفے کی منظوری کا معاملہ اب بھی معمہ بنا ہوا ہے۔ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا استعفا گورنر کو بھیج دیا ہے اور اب مزید ”ڈرامہ بازی“ بند ہونی چاہیے۔
تاہم تازہ بیان کے مطابق گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کا استعفی موصول ہوگیا ہے، پیر کو دفترکھلے گا تو فیصلہ کروں گا، ان کا کہنا تھا کہ استعفی پر قانون کے مطابق فیصلہ کروں گا۔
اس سے قبل گورنر فیصل کریم کنڈی کا مؤقف تھا کہ ابھی تک ان کے پرنسپل سیکرٹری کو کوئی استعفا موصول نہیں ہوا، اور جب موصول ہوگا تو اس کا بغور جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر استعفے کو ہاتھ سے نہ لکھے جانے کی بنیاد پر اعتراض لگا سکتے تھے، جس کے باعث استعفے کی منظوری مزید تاخیر کا شکار ہو سکتی تھی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا ہے، اور اگر گورنر نے استعفے پر دستخط نہ کیے تو یہ تحریک پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 145 رکنی ایوان میں آزاد اراکین کی تعداد 93 ہے جبکہ اپوزیشن اراکین 52 ہیں۔ علی امین گنڈا پور کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کامیاب کرانے کے لیے 73 ووٹ درکار ہوں گے۔
مزیدپڑھیں:ٹرمپ حکومت نے ہزاروں سرکاری ملازمین کو فارغ کردیا



