Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

وطن کے دفاع میں 23جوان شہید، 29زخمی ہوئے:آئی ایس پی آر

راولپنڈی (نیوز ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق وطن کے دفاع میں 23جوان شہید، 29زخمی ہوئے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق 11 اور 12اکتوبر کی رات پاک افغان سرحد کے قریب افغان طالبان اور بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج کی جانب سے حملہ کیا گیا،حملے میں فائرنگ اور جسمانی دراندازیاں شامل تھیں جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے دوچار کر کے دہشت گردی کو فعال کرنا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افواج نے حقِ خود دفاع استعمال کرتے ہوئے سرحد بھر میں جارحانہ کارروائیوں کا بروقت اور مؤثر جواب دیا،پاک فوج نے افغان طالبان فورسز اور خوارج کے خلاف موثر جوابی کاروائی کر کے انہیں پسپا کیا اور بھاری نقصان پہنچایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق صحیح نشانے بازی، فائرز، فضائی/زمی آپریشنز اور جسمانی چھاپوں کے ذریعے افغان علاقے میں قائم دہشتگردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،اِن میں Fitna al Khwarij (FAK)، Fitna al Hindustan (FAH) اور ISKP/Daesh سے منسلک عناصر شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد پار متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے اور 21 مخالف پوزیشنیں عارضی طور پر قبضہ میں لائی گئیں،متعدد دہشتگردی ٹریننگ کیمپ، جو پاکستان پر حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کے لیے استعمال ہو رہے تھے، غیر فعال کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رات بھر کے مصروفیات میں 23 بہادر سپاہی شہادت کے درجات پر فائز ہوئے،29 (انتیس) جوان زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق قابلِ اعتماد انٹیلی جنس تخمینوں اور زخمیوں کے تخمینے کے مطابق 200 (دو سو) سے زائد افغان طالبان اور خوارج سے وابستہ دہشتگرد ہلاک کیے گئے،ہلاکتوں کے علاوہ زخمیوں کی تعداد بھی کافی زیادہ بتائی جاتی ہے،دہشتگرد ٹھکانوں، پوسٹس، ہیڈکوارٹرز اور سپورٹ نیٹ ورکس کو سرحد کے طول و عرض میں وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج اپنے عوام کی جان و مال اور سرحدی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے،ہمارا عزمِ دفاع پاکستان کی سرحدی سالمیت کے تحفظ اور سلامتی کو خطرہ بنانے والوں کے خاتمے کے لیے غیرمتزلزل ہے،پاکستان تعمیری سفارتکاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے مگر افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لیے استعمال برداشت نہیں کرے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ سنگین اشتعال انگیزی طالبان وزیرِ خارجہ کے بھارت کے دورے کے دوران ہوئی ہے، جسے ہم خطے میں دہشتگردی کی سب سے بڑی معاونت قرار دیتے ہیں۔ ہم طالبان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروہوں، بالخصوص FAK، FAH اور ISKP/Daesh کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ اگر طالبان حکومت ایسے گروہوں کو ٹھکانے لگانے میں ناکام رہی تو پاکستان اپنی عوام کے دفاع کے لیے دہشتگرد اہداف کے خلاف مسلسل کارروائی جاری رکھے گا،افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ غیرذمہ دارانہ جنگی زبان کو ترک کرے اور افغان عوام کی فلاح، امن اور ترقی کو ترجیح دے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشتگردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان اس خطرے کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا،پاکستان خطے میں امن و استحکام کی خاطر پرعزم ہے مگر اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر اقدام اٹھائے گا۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گرگئیں

یہ بھی پڑھیں