اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکم عدولی کے الزام پر ڈولفن اسکواڈ کے 26 اہلکاروں کو ڈسمس کر دیا گیا ہے اور مزید اہلکاروں کے برخاست ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض اہلکار اسلام آباد سے باہر، خاص طور پر لاہور تعیناتی پر جانے سے گریز کر رہے تھے جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوئی۔
پولیس ہیڈکوارٹر میں طلب کیے جانے کے باوجود ڈولفن اسکواڈ کی بڑی نفری پولیس لائنز اور ہیڈکوارٹر پر موجود نہ پہنچ سکی۔ اس دوران ایس پی ڈولفن خالد اعوان نے اہلکاروں کو فوری طور پر ہیڈکوارٹر پہنچنے کی ہدایت جاری کی اور ویڈیو پیغام میں کہا: “پلیز ڈولفن اسکواڈ، پلیز 15 منٹ میں پہنچیں۔ ہم پولیس لائن میں موجود ہیں، فوری پہنچیں”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نصف گھنٹے کے اندر اہلکار پہنچے بغیر رہے تو تمام غیر حاضر اہلکاروں کو ڈسمس آرڈر بھجوا دیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ کچھ اہلکار لاہور تعیناتی پر جانے سے گریز کر رہے تھے اور انہوں نے اسلام آباد سے باہر جانے کے حوالے سے اعتراضات ظاہر کیے۔ ذرائع نے بتایا کہ اہلکاروں نے صورتِ حال کی وجہ سے “زبردستی تعیناتی” پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم محکمہ نے اس رویے کو حکم عدولی تصور کیا۔
ایس پی خالد اعوان نے عوام اور اہلکاروں کو یقین دہانی کرائی کہ “جو آپ کا حق ہے وہ آپ کو ملے گا” اور نظم و نسق قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بعض کارکنان کے مطابق انہیں کسی بھی طرح کی ڈسپلن خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی، جب کہ اہلکاروں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہیں خطرات اور ذاتی وجوہات کے پیشِ نظر مخصوص تعیناتیوں پر تحفظات ہیں اور انہیں اس سلسلے میں سننے کی ضرورت ہے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی طور پر 26 اہلکاروں کے خلاف کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور مزید شواہد کی روشنی میں اضافی ڈسمسلز متوقع ہیں۔ متبادل طور پر محکمہ انتظامیہ نے کہا کہ جو اہلکار تعیناتی قبول کریں گے ان کے حقوق اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:کوٹلی:رہنما ن لیگ سابق وزیر بلدیات راجہ محمد نصیر احمد خان انتقال کر گئے


